سورة الانعام - آیت 17

وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اگر اللہ تجھے کوئی ضرر پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں اور جو وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر شے پر قادر ہے (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ہی جزا و سزا اور رحم و کرم کا مالک نہیں بلکہ دنیا میں بھی خیر و شر کا اختیار رکھنے والا ہے۔ خیر و شر کے اختیار کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی ہستی نہیں جو نقصان سے آپ کو بچا سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو بھلائی اور بہتری عطا کرنا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی طاقت نہیں جو اس میں رکاوٹ ڈال سکے آپ کو براہ راست مخاطب کرنے کا معنی یہ ہے کہ جب رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تو دنیا میں کون ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا سکے۔ یہ ایسا عقیدہ ہے جو مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردیتا ہے اسی عقیدہ کی بنیاد پر مجاہد میدان کار زار میں اترتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ نے میری حفظ و امان کا ذمہ لیا ہوا ہے۔ اس وقت تک دشمن میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور یہی عقیدہ اخلاص کی دولت عطا کرتا ہے۔ جس کی بنیاد پر ہر مسلمان دوسرے مسلمان سے پر خلوص محبت کا ناتہ جوڑتا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ خیر و شر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہی اللہ اپنے بندوں کو نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے فیصلے کے سامنے کسی جابر کا جبر اور کسی صالح کی صالحیت رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح قادر ہے۔ وہ کسی کو خیر پہنچانے اور عذاب دینے کی حکمت سے خوب واقف ہے۔ (عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَی الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ (رض) إِلَی الْمُغِیرَۃِ اُکْتُبْ إِلَیَّ مَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاۃِ فَأَمْلٰی عَلَیَّ الْمُغِیرَۃُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاۃِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللَّہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ) [ رواہ البخاری : کتاب القدر، باب لامانع لما اعطی اللہ] ” مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد کہتے ہیں معاویہ (رض) نے مغیرہ کی جانب لکھا کہ مجھے لکھ کر بھیجئے۔ جو آپ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز کے بعد سنا کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ (رض) نے مجھ سے لکھوایا کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے بعد یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ ایک ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اے اللہ جسے تو دینا چاہتا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی نہیں دینے والا۔ اور تیرے ہاں کسی بڑے کی بڑائی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مکمل اختیار رکھنے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی مصیبت دور کرنے والا نہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب حکمت ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے۔ ٥۔ اللہ کے علاوہ کوئی بھلائی عطا نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی مشکل کشا، حاجت روا ہے : ١۔ اللہ ہی کو پکارو وہی تکلیف دور کرتا ہے۔ (الانعام : ٤١) ٢۔ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوجائے تو سوائے اللہ کے اسے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ (یونس : ١٠٧) ٣۔ اللہ کے سوا کوئی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔ (الاسراء : ٥٦) ٤۔ کون ہے جو اللہ کے سوا مجبور کی دعا سننے والا اور مصیبت دور کرنے والا ہے۔ (النمل : ٦٢) ٥۔ کہہ دیجیے اگر اللہ تعالیٰ نقصان پہچانے پر آئے کیا کوئی نقصان دور کرسکتا ہے۔ (الفتح : ١١) ٦۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع ونقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : ١٦)