سورة الانعام - آیت 5

فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سو وہ حق کو جب ان کے پاس آیا جھٹلاچکے اب آگے اس کا انجام جس پر وہ ہنستے تھے ، ان پر آئے گا ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو توحید اور اس کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض، ان کی تکذیب کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے منع فرمایا تھا۔ اب افتراء اور استہزاء پر ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ کفار اور مکذّبین کو عذاب کی وعید سنانا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان سے پہلے عاد، ثمود، قوم فرعون اور قوم لوط کو ہلاک کردیا گیا۔ جنھوں نے اس گھمنڈ کے ساتھ تکذیب کی کہ ہم بہت طاقتور، اور مالدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جرائم کی وجہ سے ان کی پکڑ کی اور ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسری قوم کھڑی کردی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے جو قوم اپنے رسول کی تکذیب اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتی ہے۔ اللہ اسے ملیا میٹ کردیتا ہے۔ قرن : کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ مال اور طاقت ان کے کچھ کام نہ آئے، ایک نسل یا کسی قوم کا دور مدت سو سال بیان کی گئی ہے۔ (رازی) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے فرمایا تھا تم ایک قرن زندہ رہو گے۔ تو وہ سو سال زندہ رہے۔ (الجامع لاحکام القرآن) (عن عِمْرَانَ بن حُصَیْنٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَیْرُکُمْ قَرْنِی ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ قَالَ عِمْرَانُ لَا أَدْرِی أَذَکَرَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَعْدُ قَرْنَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب لایشہد علی شہادۃ جور] ” حضرت عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے بہترین زمانہ میرا ہے پھر ان کے بعد آنے والے لوگ پھر ان کے بعد آنے والے لوگ درجہ بدرجہ ہیں۔ عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں مجھے یہ بات یاد نہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بعد دوزمانوں کا تذکرہ کیا یا تین کا۔“ مسائل ١۔ کافر اللہ تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں کو ضرور سزا دی جائے گی۔ ٣۔ جو قوم بھی سرکشی کی راہ اختیار کرے گی اسے خوشحالی و مادی ترقی ہلاکت سے نہیں بچا سکتی۔ تفسیر بالقرآن تباہ ہونے والی بڑی بڑی اقوام : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : ٦) ٢۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : ١٣) ٣۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ: ٥) ٤۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ: ٦) ٥۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف : ٣٥) ٦۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : ١٣٦) ٧۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود : ٨٢)