سورة المآئدہ - آیت 114

قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ ۖ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

عیسی بن مریم (علیہ السلام) نے کہا ، اے اللہ ہمارے رب ، آسمان سے ہم پر ایک خوان نازل کر کہ ہمارے لئے عید ہو ، ہمارے پہلے اور پچھلوں کے لئے اور تیری طرف سے ایک نشان ہو ، اور ہمیں رزق دے اور تو بہتر رزق دینے والا ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

قرآن مجید کے دوسرے مقام پر اس کی یوں وضاحت ہے۔ (یَآأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا أَنْصَار اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ أَنصَارِیْٓ إِلٰی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ أَنْصَار اللّٰہِ فَاٰمَنَتْ طَّاءِفَۃٌ مِّنمْ بَنِی إِسْرَاءِیْلَ وَکَفَرَتْ طَّآءِفَۃٌ فَأَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوْا ظَاہِرِیْنَ)[ الصف : ١٤] ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار بن جاؤ۔ جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا اللہ کی طرف (بلانے میں) میرا کون مددگار ہے؟ تو حوا ریوں نے کہا تھا کہ ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں پھر بنی اسرائیل کا ایک گروہ تو ایمان لے آیا اور دوسرے گروہ نے انکار کردیا ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی لہٰذا وہی غالب رہے۔“ حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا اعلان تو کردیا لیکن ساتھ ہی نہا یت ادب کے ساتھ ملتمس ہوئے کہ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کیا یہ ممکن ہے آپ کا رب آسمان سے ہمارے لیے کھانوں سے بھر پور دستر خوان نازل کرے؟” ہَلْ یَسْتَطِیْعُ“ کے معنی یہ نہیں کہ انہیں شک تھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے دستر خوان نازل نہیں کرسکتا۔ یقیناً وہ جانتے تھے کہ جو رب من وسلوی اور بارش نازل کرسکتا ہے وہ پکا پکایا کھانا بھی نازل کرسکتا ہے۔ کیا آپ کا رب طاقت رکھتا ہے؟ کا مقصد یہ تھا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی اور اس کی حکمت کے منافی نہ ہو تو وہ ہم پر دسترخوان نازل فرمائے تاکہ ہم یہ فوائد حاصل کرسکیں۔ ١۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ پکوان کو خوب مزے لے لے کر سیر ہو کر کھائیں۔ ٢۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے پرندوں کا معجزہ ظاہر ہوا اور وہ اطمینان قلب کی دولت سے مالا مال ہوئے ہم بھی دستر خوان سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ قلبی اطمینان چاہتے ہیں۔ ٣۔ اس اطمینان قلب اور انشراح صدر کے بعد ہم لوگوں کے سامنے شدّو مدّاور بھرپور طریقہ کے ساتھ آپ کی نبوت کا پر چار کریں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں تم پر اپنی نعمتوں سے بھر پور دستر خوان نازل کروں گا لیکن یاد رکھنا اس کے بعد جس کسی نے انکار کیا تو اسے ایسے عذاب سے دوچار کیا جائے گا کہ جس کی مثال دنیا میں پہلے نہ ہوگی۔ دستر خوان کے نزول کے بارے میں مفسرین کی دو آرا پائی جاتی ہیں ایک طبقہ کا خیال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا جب کہ دوسرے فریق کا خیال ہے کہ عذاب کی وارننگ سن کر حواریوں نے اس مطالبہ سے توبہ کرلی تھی۔ (واللہ اعلم) مسائل ١۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے خصوصی کھانے کی دعا کی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی آیات نازل ہونے پر اتمام حجت ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن ١۔ اللہ ہی سب کو رزق دینے والا ہے : ٢۔ اے اللہ ہمیں رزق عطا فرما تو ہی بہتر رزق دینے والا ہے۔ ( المائدہ : ١١٤)