سورة المآئدہ - آیت 101

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مومنو ! ایسی باتیں جن کی حقیقت اگر تم پر کھول دی جائے تو تمہیں بری معلوم ہو رسول سے نہ پوچھا کرو (ف ١) ۔ اور جب تم انکی حقیقت ایسے وقت میں پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو ان کا بھید تمہارے لئے کھولا جائے گا خدا نے ان سے درگزر کی اور خدا بخشنے والا بردبار ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ذمہ داری کما حقہ نبھاتے ہوئے اچھائی اور برائی میں فرق واضح کر رہے ہیں تو تمہیں بے وجہ سوال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ادب کے منا فی ہونے کے ساتھ تمہارے لیے مشکل کا با عث ہوگا۔ نزول قرآن کے وقت سوال کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے نا زل کردہ وحی من وعن لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جس میں حلال وحرام، خبیث اور طیّب، جائز اور نا جائز کے درمیان پوری طرح فرق کیا جارہا ہے تو پھر خواہ مخواہ بال کی کھال اتارنا جائز نہیں۔ اس میں ایک طرف گستاخی کا پہلو نکلتا ہے اور دوسری طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا ہے جو کسی طرح بھی جائز نہیں۔ اس لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب میں کوئی مسئلہ بیان کروں تو اسے سنو اور اس پر حتی المقدور عمل کرو۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ کوئی بات کرتے ہوئے بھولتا نہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ خَطَبَنَا وَقَالَ مَرَّۃً خَطَبَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْفَرَضَ عَلَیْکُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا فَقَالَ رَجُلٌ أَکُلَّ عَامٍ یَا رَسُول اللّٰہِ فَسَکَتَ حَتّٰی قَالَہَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ ثُمَّ قَالَ ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلٰی أَنْبِیَاءِہِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَدَعُوہُ)[ رواہ احمد] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرما تے ہوئے فرمایا اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے تو تم حج کرو۔ ایک شخص نے کہا اے رسول مکرم ! کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے یہاں تک کہ اس شخص نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر حج واجب ہوجا تا اگرچہ تم میں سے اس کی کوئی طا قت نہ رکھتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن معاملات کے متعلق میں نے تم کو چھوڑ دیا ہے تم بھی اس کے بارے میں مجھے چھوڑ دو بلاشبہ تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور انبیاء کے بارے میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جب میں تم کو کسی کام کا حکم دوں تو حسب استطاعت اس کو پورا کرو اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس کو چھوڑ دو۔“ بے مقصد سوال کرنے والا مجرم ہے : (عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ (رض) عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِینَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَیْءٍ لَمْ یُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہِ )[ رواہ البخا ری : باب مَا یُکْرَہُ مِنْ کَثْرَۃِ السُّؤَالِ وَتَکَلُّفِ مَا لاَ یَعْنِیہِ] ” سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جس کو لوگوں پر حرام قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کو حرام قرار دے دیا گیا۔“ مسائل ١۔ خواہ مخواہ مسئلہ سے مسئلہ نہیں نکالنا چاہیے۔ ٢۔ بے مقصد سوال نہیں کرنے چاہییں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت بردبار ہے۔ ٤۔ جن لوگوں نے بے مقصد سوال کرنے کا وطیرہ اختیار کیا وہ پریشان ہوئے۔ ٥۔ بے مقصد سوالات اٹھانے والوں کی اکثریت گمراہ ہوجاتی ہے۔