سورة المآئدہ - آیت 97

جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اللہ نے کعبہ کو جو بزرگی کا گھر ہے آدمیوں کے لئے سبب انتظام ٹھہرایا ہے اور بزرگی والے مہینوں کو اور قربانی اور گلے لٹکن والی قربانیاں ، یہ اس لئے کہ تم جانو کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ کو معلوم ہے اور اللہ ہر شئے کو جانتا ہے (ف ٢) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : احرام کی حالت میں تمہیں شکار سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اللہ کے گھر کا مقام اور احترام کا یہی تقاضا ہے جس کا تمھیں خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ نے اسے امن وسکون کا گہوارا بنایا ہے۔ لفظ کعبہ کا معنی بیان کرتے ہوئے معارف القرآن کے مؤلف مفتی شفیع مرحوم لکھتے ہیں کہ عربی میں کعبہ ایسی عمارت کو کہتے ہیں جو چوکور ہو یعنی جو چار کو نوں پر استوار اور اونچی جگہ پر ہو پھر ان کا بیان ہے کہ عرب میں کعبہ کے نام پر خشعم قبیلہ کی ایک عمارت تھی جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے اس مغالطے سے بچانے کے لیے کعبہ کے ساتھ بیت الحرام کی تخصیص فرمائی ہے جو لوگوں کے لیے باعث قیام ٹھہرایا گیا ہے۔ بیت اللہ لوگوں کے لیے باعث قیام اس لیے ہے کہ جب تک لوگ اس کا احترام اور اس جانب منہ کرکے نماز پڑھتے رہیں گے اسی وقت تک ہی یہ دنیا قائم رہے گی۔ جب لوگ کعبہ کی طرف منہ کرکے اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ دیں گے تو دنیا کو نیست و نابود کردیا جائے گا۔ ” اَلنَّاسْ“ کے مفسرین نے تین مفہوم بیان کیے ہیں : ١۔ مکہ معظمہ اور اس کے آس پاس میں رہنے والے لوگ۔ ٢۔ حج اور عمرہ کے لیے بیت اللہ تک پہنچنے والے زائرین۔ ٣۔ پوری دنیا کے لوگ۔ اس آیت میں بیت اللہ کے ساتھ چار حرمت والے مہینے یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب اور حج وعمرہ کے موقع پر کی جانے والی قربانیاں اور اس کے علاوہ وہ جانور بھی محترم قرار دیے گئے ہیں جنھیں عرب بیت اللہ کے لیے وقف کرتے ہوئے ان کے گلے میں کسی قسم کا ہار ڈال دیا کرتے تھے۔ بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کچھ لوگ بیت اللہ کی زیارت کا سفر باندھتے تو اپنے گلے میں کوئی ہار ڈال لیا کرتے تھے تاکہ ہر قسم کی زیادتی سے مامون ہوجائیں۔ بیت اللہ کی حرمت و برکت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ محرمات اس لیے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی وجہ سے تمھیں کس قدر عزت و تکریم اور اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمھاری ضروریات کا خیال رکھا ہے۔ اس کا تمھیں احساس ہونا چاہیے کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے کیونکہ وہ زمین و آسمان کے چپے چپے اور ذرّے ذرّے سے واقف ہے اور تمھیں یہ بھی اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو شدید ترین عذاب دینے والا اور تابع فرمان لوگوں کی کوتاہیوں کو معاف کرنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے۔ ” حضرت انس (رض) فرماتے ہیں بے شک رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والے لوگ ہیں۔“ [ رواہ مسلم : کتاب الایمان] قرآن مجید نے سورۃ آل عمران آیت ٩٦ میں بیان کیا ہے کہ سب سے پہلے جو گھر معرض وجود میں آیا وہ بیت اللہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے مبارک اور ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ قیامت کے قریب حبشہ کا ایک آدمی جس کی پنڈلیاں عام لوگوں سے لمبی ہوں گی بیت اللہ کو شہید کرے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب تک بیت اللہ ہے اس وقت دنیا قائم رہے گی۔ بیت اللہ کا لوگوں کے لیے باعث قیام ہونے کا یہ مفہوم بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی برکت کی وجہ سے اس کی زیارت کرنے والوں کو حفظ و امان سے نوازا ہے اور بے آب و گیاہ سر زمین میں اللہ تعالیٰ اس کے زائرین اور اس کے گرد و پیش رہنے والوں کو انواع و اقسام کے کھانوں، پھلوں اور نعمتوں سے نوازرہا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ تمام لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ٣۔ اللہ نافرمانوں کو سخت سزا دینے والا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ فرمانبرداروں پر بہت رحمت کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (الحجرات : ١٦) ٢۔ وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے۔ (الحدید : ٤) ٣۔ کیا انسان کو معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (المجادلۃ : ٧) ٤۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (التغابن : ٤) ٥۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ بحر و برّ کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الانعام : ٥٩)