سورة المآئدہ - آیت 73

لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بےشک وہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں (ف ٢) سے ایک ہے حالانکہ سوائے ایک معبود کے اور کوئی معبود ہی نہیں ہے ، اگر وہ اس بات کو جو وہ کہتے ہیں نہ چھوڑیں گے تو ان میں جو کافر ہیں دیکھ دینے والا عذاب پائیں گے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی تردید اور انہیں اس عقیدہ سے توبہ کی تلقین کی گئی ہے۔ آدمی جب حقائق دیکھنے سے اندھا اور دلائل سننے سے بہرہ ہوجائے تو وہ کفر کی وادیوں میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے عیسائی اس جرم کے مرتکب ہوئے تو حقائق جاننے کے باوجود عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت میں اندھے ہو کر یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوئے کہ اللہ، عیسیٰ اور مریم ایک دوسرے سے ہیں اور اللہ اس مثلث میں سے ایک ہے۔ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے شرک تمام گناہوں کا منبع، آخری درجے کا ظلم اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی توحید سے آگاہ فرماتے ہوئے انسانی رشتوں کے درجہ بدرجہ احترام کا حکم دیا ہے لیکن کوئی انسان کس قدر نیک، صالح اور دین و دنیا کے لحاظ سے کتنا ہی بلندوبالا کیوں نہ ہو وہ بالآخر انسان ہی رہتا ہے لہٰذاانسان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا بندہ ہونے کے سوا کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ سورۃ اخلاص میں اس عقیدہ کو نہایت سادہ لیکن مکمل انشراح کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا ہے نہ اس سے کوئی چیز نکلی اور پیدا ہوئی ہے اور نہ اس کی کوئی برابری کرنے والا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک ہے اور بے مثال ہے لیکن افسوس مشرک اس بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا۔ عیسائی دو قدم آگے بڑھتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مریم [ کو اللہ کی بیوی قرار دیتے ہیں اور اس عقیدہ کا نام تثلیث رکھا۔ افسوس امت مسلمہ کی اکثریت شرک کی تمام اقسام کا ارتکاب کر رہی ہے جبکہ ہر نبی اپنی امت کو اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو صرف اور صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ایک معبود حقیقی ہے لہٰذا انسان کو ایک اللہ ہی کو اپنا معبود، مشکل کشا، حاجت روا اور خالق ومالک سمجھ کر اس کی عبادت کرنی چاہیے جو لوگ عقیدہ تثلیث اور شرک سے باز نہیں آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں درد ناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ البتہ جنھوں نے شرک سے توبہ کی اور اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہوئے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے گا کیونکہ وہ نہایت ہی معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ (عن ابی وائل (رض) قالَ سَمِعْتُ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ یُجَاء بالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُہُ فِی النَّارِ فَیَدُورُ کَمَا یَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاہُ فَیَجْتَمِعُ أَہْلُ النَّارِ عَلَیْہِ فَیَقُولُونَ أَیْ فُلَانُ مَا شَأْنُکَ أَلَیْسَ کُنْتَ تَأْمُرُنَا بالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَانَا عَنِ الْمُنْکَرِ قَالَ کُنْتُ آمُرُکُمْ بالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِیہِ وَأَنْہَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیہِ)[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النا ر] ” حضرت ابو وائل (رض) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرما تے ہوئے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو جہنم میں پھینکا جائے۔ وہ آگ میں اپنی انتڑیوں کے گرد چکر لگائے گا جس طرح گدھا کنویں کے گرد چکر لگاتا ہے جہنم کے لوگ اکٹھے ہو کر اسے کہیں گے تمہیں کیا ہوگیا ہے کیا تم ہمیں نیکی کی ترغیب اور برے کا موں سے روکتے نہیں تھے وہ کہے گا میں تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتا تھا مگر خود نہیں کیا کرتا تھا۔ تمہیں برائی سے منع کرتا تھا اور خود اس کا مر تکب ہوا کرتا تھا۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اَ للّٰہُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ أَحَدِکُمْ إِذَا اسْتَیْقَظَ عَلَی بَعِیرِہِ قَدْ أَضَلَّہُ بِأَرْضِ فَلَاۃٍ )[ رواہ مسلم : کِتَاب التَّوْبَۃِ، بَاب فِی الْحَضِّ عَلَی التَّوْبَۃِ وَالْفَرَحِ بِہَا] حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اپنے بندوں کے توبہ کرنے سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کو اس کا اونٹ بے آب و گیاہ علاقے میں چھوڑ کر دوبارہ ملے۔“ (لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُواْ إِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ وَمَا مِنْ إِلَہٍ إِلاَّ إِلَہٌ وَاحِدٌ وَإِن لَّمْ یَنتَہُواْ عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِینَ کَفَرُواْ مِنْہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ)[ المائدۃ: ٧٣] ” بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوچکے جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے حالانکہ اِلٰہ تو صرف وہی اکیلا ہے اگر یہ لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو انکار کرتے رہے انھیں المناک عذاب ہوگا۔“ مسائل ١۔ تین الٰہ کا عقیدہ رکھنے والے کافر ہیں۔ ٢۔ ا لٰہ ایک ہی ہے۔ ٣۔ شرکیہ عقائد سے باز نہ آنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کا طلب گار رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی ایک الٰہ ہے : ١۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل : ٦٠) ٢۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل : ٦١) ٣۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٢) ٤۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : ٦٣) ٥۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے؟ (النمل : ٦٤) ٦۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : ٦٥) ٧۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : ٧١) ٨۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے جو دن ختم کرکے رات لائے ؟ (القصص : ٧٢) ٩۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کوئی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : ٨٨) ١٠۔ تمھارا الٰہ ایک ہی وہ رحمن، رحیم ہے۔ (البقرۃ: ١٦٣)