سورة النسآء - آیت 175

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پکڑا ، وہ انہیں اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انہیں اپنی طرف سیدھی راہ دکھائے گا (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ (رض) خَطَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَطًّا بِیَدِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ مُسْتَقِیْمًا قَالَ ثُمَّ خَطَّ عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَشِمَالِہٖ ثُمَّ قَالَ ھٰذِہِ السُّبُلُ وَلَیْسَ مِنْھَا سَبِیْلٌ إِلَّا عَلَیْہِ شَیْطَانٌ یَدْعُوْ إِلَیْہِ ثُمَّ قَرَأَ (وَاََنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ) [ رواہ احمد ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں خط کھینچ کر فرمایا یہ راستے ہیں ان سب میں سے ہر ایک پر شیطان کھڑا ہے اور وہ اس کی طرف بلاتا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی (بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلتے رہنا اور پگڈنڈیوں پر نہ چلنا۔) “ (الانعام : ١٥٣) مسائل ١۔ قرآن مجید ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ ٢۔ قرآن کو مضبوطی سے تھامنے والے اللہ کے فضل و کرم سے ہمکنار ہوں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ٤۔ قرآن مجید چمکتا ہوا نورہے۔ تفسیر بالقرآن نور کیا ہے ؟ ١۔ اللہ تعالیٰ کی ذات زمین و آسمان کا نور ہے۔ (النور : ٣٥) ٢۔ قرآن نور ہے۔ (النساء : ١٧٤) ٣۔ توحید نور ہے۔ (البقرۃ: ٢٥٧) ٤۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نور کی طرف بلاتے تھے۔ ( الطلاق : ١١، ابراہیم : ١) ٥۔ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب مبین کی صورت میں نور آگیا۔ ( المائدۃ : ١٥) ٦۔ توراۃ و انجیل نور ہیں۔ (المائدۃ : ٤٤۔ ٤٦) ٧۔ وہ ذات جس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور بنایا۔ ( یونس : ٥)