سورة النسآء - آیت 158

بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بلکہ خدا کے اسے اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے (ف ١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

لوگوں کے تعجب کو دور کرنے اور نام نہاد دانشوروں کی دانش کو لگام دینے کے لییعَزِیْزاً حَکِیْماً کے الفاظ کے ذریعے وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسمان کی طرف اٹھانے اور ان کے دشمنوں سے بچانے پر قادر ہے اللہ تعالیٰ انھیں آسمان پر اٹھانے اور قیامت کے قریب زمین پر بھیجنے کاراز جانتا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کے بارے میں اختلاف کرنے والے صرف اٹکل پچوسے کام لے رہے ہیں۔ یہاں یہودیوں کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) سولی نہیں چڑھائے گئے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے یہاں اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرب قیامت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زمین پر آمد اور انکی وفات کے وقت موجود ہوں گے۔ بعض لوگوں نے کچھ اقوال کی بنیاد پر لکھا ہے کہ ” قَبْلَ مَوْتِہِ“ سے مرادہر مرنے والا عیسائی اور یہودی ہے۔ جب یہودی اور عیسائی کو موت آتی ہے تو اس کے سامنے ایسے قرائن لائے جاتے ہیں جس سے اسے یقین آجاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ابھی زندہ ہیں لیکن اس بات کو کسی ٹھوس دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ قَبْلَ مَوْتِہٖ الفاظ کا حقیقی معنی احادیث کی روشنی میں متعین ہوچکا ہے۔ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکانے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی تائید میں عیسائیوں کی اکثریت نے اپنے مفاد کی خاطریہ عقیدہ گھڑ لیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) واقعی ہی فوت ہوچکے ہیں۔ حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔ یہودیوں کے دلائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائی کہتے ہیں کہ واقعی عیسیٰ (علیہ السلام) مصلوب ہوچکے ہیں جس عیسیٰ مسیح کے دوبارہ آنے کا حدیث میں ذکر ملتا ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں بلکہ مرزا ہے جو مسیح بن کر آ چکا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ نہیں آئیں گے۔ (ِعنَ أَبَی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ فیکُمْ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا مُقْسِطًا فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہُ أَحَدٌ)[ رواہ البخاری : کتاب ا لمظالمِ، بَاب کَسْرِ الصَّلِیبِ وَقَتْلِ الْخِنْزِیر] حضرت ابوہریرہ (رض) نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) عادل حکمران کی حیثیت سے نہیں آئیں گے وہ صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے۔ جزیہ ختم کردیں گے۔ مال ودولت کی اس قدربہتات ہوگی کہ صدقہ وخیرات لینے والا نہیں ہوگا۔“ (عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ (رض) عَنْ أَبِیہٖ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ مَکْتُوبٌ فِی التَّوْرَاۃِ صِفَۃُ مُحَمَّدٍ وَصِفَۃُ عیسَی ابْنِ مَرْیَمَ[ یُدْفَنُ مَعَہُ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب، بَاب فِی فَضْلِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت عبداللہ بن سلام (رض) اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ تورات میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عیسیٰ ابن مریم ( علیہ السلام) کی صفات لکھی ہوئی ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دفن ہوں گے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ، وَالأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ، أُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی، وَدِینُہُمْ وَاحِدٌ ) [ رواہ البخاری : باب واذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ بن مریم کے زیادہ قریب ہوں اور تمام انبیاء (علیہ السلام) علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہی ہے۔“ مسائل ١۔ یہودیوں نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو نہ قتل کیا اور نہ ہی انہیں سولی پر لٹکایا۔ ٢۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت کے بارے میں لوگ اپنی طرف سے اٹکل پچو لگاتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔