سورة النسآء - آیت 146

إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مگر جنہوں نے توبہ کی اور سنور گئے اور خدا کو مضبوط پکڑا اور اپنا دین خدا کے لئے خالص کیا سو وہ مومنین کے ساتھ ہیں اور عنقریب مومنین کو خدا بڑا ثواب دے گا ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفر اور منافقت سے سچی توبہ اور اپنے کیے کی اصلاح کرنے والوں کے لیے اجر عظیم کا وعدہ اور اس بات کی وضاحت کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے کفر پر نہیں شکر پر راضی ہوتا ہے کیونکہ وہ مومنوں اور شکر گزاروں کا قدر دان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا ہے کہ منافقوں کا کردار اور ان کا انجام ذکر کرنے کے باوجود ان کے لیے نہ صرف توبہ اور بخشش کا دروازہ کھلا رکھا بلکہ انہیں توبہ کرنے کی صورت میں انعام و اکرام اور مومنوں کی رفاقت کی خوشخبری سنائی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مومنوں کے ساتھ اجر عظیم سے سرفراز کرے گا اور تمہارے اعمال و خدمات کی قدر افزائی کی جائے گی بشرطیکہ گناہوں پر اصرار کرنے کے بجائے توبہ کرو، فساد اور بگاڑ کی جگہ اپنی اصلاح کرتے ہوئے مومنوں کا ساتھ دو، متذبذب رہنے اور ابن الوقت بننے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان کا مضبوط رشتہ قائم کرکے اس کی رضا کے لیے اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ۔ تمہارے عمل اور اخلاص کو نہایت ہی نظر استحسان سے دیکھا اور تمہیں بے پناہ اجر دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سزا دینے کی بجائے جزا دینا زیادہ پسند کرتا ہے بشرطیکہ وہ تسلیم و رضا کا رویہ اختیار کریں۔ بندے کا شکریہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نعمتوں پر دل سے مطمئن ہو، زبان سے شکرو اعتراف کرے اور اپنے عمل سے محسن حقیقی کا اطاعت گزار بن کر رہے۔ اللہ تعالیٰ کے شاکر ہونے سے مراد بندے کی حقیر اور ناچیز اطاعت کی قدر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول کرکے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑکی مانند ہوجاتا ہے۔“ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَلتَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہٗ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ] ” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے والے کی طرح ہے۔“ مسائل ١۔ توبہ اور اپنی اصلاح کرنے اور اللہ سے تعلق مضبوط رکھنے والے مومن کو اجر عظیم دیا جائے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو عذاب دے کر خوش نہیں ہوتا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور شرک سے بچنے والے کی قدر افزائی کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اخلاص فی الدّین : ١۔ پہلے لوگوں کو اخلاص کا حکم۔ (البینۃ: ٥) ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کا حکم۔ (الزمر : ١١) ٣۔ سب کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کا حکم۔ (المومن : ٦٥) ٤۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخلص لوگوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت۔ (الکہف : ٢٨)