سورة الاخلاص - آیت 1

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

تو کہہ وہ اللہ ایک ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : الاخلاص سے پہلے سورت اللّہب ہے جس میں توحید کے مخالفین میں سے ایک بڑے مخالف کی ہلاکت و بربادی کی اطلاع دی گئی ہے۔ اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ بالآخر دعوت توحید کے مخالف مٹ جائیں گے اور توحید خالص کا پرچار اور غلغلہ ہوگا۔ مفسرین نے اس سورت کے اور بھی نام تحریر فرمائے ہیں لیکن اس کا سب سے مشہور اور معتبر نام ” الاخلاص“ ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد اور قرآن کی مرکزی دعوت توحید ہے اسی لیے قرآن مجید کا آغاز فاتحہ سے ہوا جس کی ابتداء توحید سے کی گئی ہے اور قرآن مجید کا اختتام بھی توحید کی سورتوں سے کیا گیا ہے۔ اس سورت کے نزول کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک دن قریش کے کچھ افراد نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر استفسار کیا (عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ الْمُشْرِکِینَ قَالُوا للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا مُحَمَّدُ انْسُبْ لَنَا رَبَّکَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی (قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ، اللَّہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ) (رواہ احمد : مسند ابی بن کعب) ” ابو العالیہ، ابی بن کعب سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین کا ایک وفد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھتا ہے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ جس رب پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں، اس کا نسب نامہ کیا ہے تاکہ ہمیں اس کی پہچان ہوجائے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے معبود پتھر، لوہے، تانبے اور مٹی وغیرہ کے بنے ہوتے ہیں، آپ کا معبود کس چیز سے بنا ہوا ہے اور اس کی شکل وصورت اور حسب نسب کیا ہے؟ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔“ یاد رہے کہ ہر دور کے مشرک اپنے اپنے انداز اور نظریات کے مطابق ” اللہ“ کی توحید کو ماننے اور اس کی عبادت کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں لیکن شرک میں ملوث لوگ توحید خالص کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، حالانکہ قرآن مجید اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت توحید خالص ہے جسے اس سورت میں جامع الفاظ اور کھلے انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو شخص ذاتی اور گروہی تعصبات سے بالاتر ہو کر توحید خالص کو سمجھنے کی کوشش کرے گا وہ اس سے واضح، مختصر اور موثر انداز کہیں نہیں پائے گا۔ اس سورت میں توحید خالص بیان کرنے کے ساتھ ہرقسم کے شرک کی نفی کی گئی ہے، اس لیے اس سورت کا نام سورت الاخلا ص رکھا گیا۔ توحید کی عظمت کے پیش نظر سورۃ الاخلاص اس قدر عظیم ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تلاوت کو دس پاروں کی تلاوت کے برابر قرار دیا ہے : (عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَےَعْجِزُ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّقْرَأَ فِیْ لَےْلَۃٍ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ قَالُوْا وَکَےْفَ ےَقْرَأُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ قَالَ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ یَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْاٰنِ) (رواہ مسلم : باب فضل قراء ۃ سورۃ الاخلاص) ” حضرت ابو درداء (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص ایک رات میں ایک تہائی قرآن تلاوت کرسکتا ہے؟ صحابہ (رض) نے عرض کی کہ ایک رات میں قرآن کا تیسرا حصہ کیسے پڑھا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ” قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ“ کی تلاوت کرنا ایک تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔“ یاد رہے کہ صحابہ کرام (رض) کی اکثریت قرآن مجیدکی تلاوت صرف ثواب کے طور پر نہیں بلکہ غورفکر کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے اس لیے انہوں نے عرض کی کہ ایک رات میں دس پارے پڑھنے مشکل ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سورت اخلاص کے ساتھ محبت۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ قَالَ مَا أُحْصِی مَا سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِی الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلاَۃِ الفَجْرِ بِ (قُلْ یَا أَیُّہَا الکَافِرُونَ) وَ (قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ).(رواہ الترمذی، بَابُ مَا جَاءَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَالقِرَاءَ ۃِ فیہِمَا) ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں میں شمار نہیں کرسکتا میں نے کتنی مربتہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغرب اور فجر کی سنتوں میں سورت کافرون اور سورت اخلاص پڑھتے ہوئے سنا ہے۔“ اس سورت میں توحید کی تمام اقسام بیان کی گئی ہیں۔ اسلام کے بنیادی عقائد تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لانا۔ باقی مسائل اور احکام انہی عنوانات کا تقاضا اور تفصیل ہیں۔ فہم القرآن میں لفظِ ” قُلْ“ کی تفسیر میں یہ بات عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید اہم مسائل اور احکام بیان کرتے ہوئے لفظِ ” قُلْ“ سے آغاز کرتا ہے تاکہ سننے والے کو مسئلے کی اہمیت اور اس کی فضیلت کا احساس ہوجائے۔ لفظِ قل میں یہ مفہوم واضح ہے کہ توحید کا پرچار کسی خوف کے بغیر کرنا چاہیے، بصورت دیگر اس کے ابلاغ کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ ارشاد ہوا کہ آپ اعلان کریں کہ وہ ” اللہ“ ایک ہے عربی زبان میں ” ھُوَ“ کی ضمیر (Pronown) دور کے لیے استعمال ہوتی ہے یہاں اس کے استعمال کے تین بڑے مفہوم سمجھ آتے ہیں۔ ١۔ اہل مکہ اور ہر دور کے مشرک مشکل ترین وقت میں اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے اور اسے ہی پکارتے تھے، اس لیے ” ھُوَ“ کی ضمیر استعمال کی گئی ہے کہ وہ ” اللہ“ جسے تم بھی مشکل کے وقت ایک مانتے اور پکارتے ہو وہ اپنی ذات، صفات اور الوہیت کے اعتبار سے ایک ہے۔ ٢۔ جس ” اللہ“ کا تعارف چاہتے ہو وہ اپنی ذات، صفات اور الوہیت میں اکیلا ہے۔ ٣۔ ” ھُوَ“ لا کر ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر جگہ موجود نہیں بلکہ وہ اپنی شان کے مطابق عرش معلی پر جلوہ افروز ہے۔ ( اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی) (طٰہٰ: ٥) ” وہ رحمٰن عرش پر مستویٰ ہے۔“ اسم اللہ کی جلالت ” اللہ“ کا نام صرف اور صرف ذات کبریا کے لیے زیبا اور اس کے لیے مختص ہے۔ یہ ذات کبریا کا ذاتی نام ہے اس اسم مبارک کے اوصاف اور خواص میں سے ایک خاصہ یہ ہے کہ کائنات میں انتہادرجے کے کافر، مشرک اور بدترین باغی انسان گزرے ہیں، جن میں اپنے آپ کو داتا، مشکل کشا، موت وحیات کا مالک کہنے والے حتی کہ ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰٰی“ کہلوانے والا بھی ہوا ہے، مگر اس نام کی ہیبت و جلالت کی وجہ سے کوئی بھی اپنے آپ کو ” اللہ“ کہلوانے کی جرأت نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا۔ مکے کے مشرک اپنے بتوں کو سب کچھ مانتے اور کہتے تھے لیکن وہ ان کو ” اللہ“ کہنے کی جرأت نہیں کرسکے تھے۔ ” اللہ“ ہی انسان کا ازلی اقرار اور اس کی فطری آواز ہے یہ اسم مبارک اپنے آپ میں ربوبیّت، الوہیّت، مالکیت، جلالت وصمدیت، رحمن ورحیم کا ابدی اور سرمدی تصور لیے ہوئے ہے۔ قرآن مجید میں ” اللہ“ کا نام 2697 مرتبہ آیا ہے اور ہر مرتبہ الگ انداز میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور عبادت کی ترجمانی کرتا ہے۔ ” اللّٰہُ اَحَدٌ“ اللہ ایک ہے اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے ایک ہے۔ اس کی ذات، اسماء وصفات اور عبادت میں کوئی شریک نہیں گویا کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ایک ہونے کے ساتھ اپنے حق عبادت میں بھی ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ” اَللّٰہُ اَحَدٌ“ میں ہر قسم کی توحید پائی جاتی ہے اور اس سے ہر قسم کے شرک کی نفی ہوتی ہے۔ کچھ مفسرین نے احد اور واحد کے استعمال میں فرق بیان کیا ہے۔ ایک مفسر کا خیال ہے کہ ” اللہ“ کی ذات کے لیے احد کی صفت لائی گئی ہے اور اس کی صفات کے لیے واحد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ دوسرے مفسرکا خیال ہے کہ احد کا معنٰی لاثانی، بے مثال اور یکتا ہے۔ اس لحاظ سے اس لفظ کا استعمال صرف ذات باری تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کا فرمان ہے کہ گنتی میں ایک، دو، تین، چار اور پانچ کے لیے واحد، اثنین، ثلاثہ، اربعہ اور خمسہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں کیونکہ گنتی میں احد کی بجائے واحد کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ واحد استعمال کرنے کی بجائے احد (اکیلا) استعمال کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک اور اکیلے کے الفاظ میں لطیف سا فرق پایا جاتا ہے لیکن اردو اور عربی ادب سے آشنا لوگ جانتے ہیں کہ اردو زبان میں احد اور اکیلا ایک دوسرے کے ہم معنٰی ہیں اور عربی زبان میں معمولی سے فرق کے سوا احد اور واحدایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں البتہ جب کسی شخص کو دوسرے سے الگ بیان کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے اکیلے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر احد اور واحد میں کوئی فرق نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی ذات کے بارے میں احد اور واحد دونوں الفاظ استعمال فرمائے ہیں : (قُلْ اِِنَّمَا اَنَا مُنْذِرٌ وَّمَا مِنْ اِِلٰہٍ اِِلَّا اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ) (ص : ٦٥) ” اے نبی ان سے فرمادیں کہ میں تو بس خبردار کردینے والاہوں ” اللہ“ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے۔ (وَ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ) (البقرۃ: ١٦٣) ” تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ بڑا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔“ ذات باری تعالیٰ کے بارے میں ایرانیوں کا نظریہ : نزول اسلام کے وقت ایرانی ایک کی بجائے دو خدا مانتے اور پکارتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ خیر و برکت نازل کرنے اور عزت دینے والا خدا یزداں ہے، شر اور نقصان دینے والا اہرمن ہے۔ قرآن مجید اس نظریے کی تردید کرتا ہے : (وَ قَال اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰہَیْنِ اثْنَیْنِ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَاِیَّایَ فَارْہَبُوْنِ) (النحل : ٥١) ” اور اللہ نے فرمایا دو معبود نہ بناؤ وہ صرف ایک ہی معبود ہے، پس صرف مجھ ہی سے ڈرو۔“ اہل مکہ کئی الہٰوں کے قائل تھے : (اَجَعَلَ الْآلِہَۃَ اِِلٰہًا وَاحِدًا اِِنَّ ہٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ وَانطَلَقَ الْمَلاُ مِنْہُمْ اَنْ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰی آلِہَتِکُمْ اِِنَّ ہٰذَا لَشَیْءٌ یُرَادُ مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْآخِرَۃِ اِِنْ ہٰذَا اِِلَّا اخْتِلَاقٌ) (ص : ٧ تا ٥) ” کیا اس نے تمام معبودوں کی جگہ بس ایک ہی معبود بنا لیا ہے۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ قوم کے سرداریہ کہتے ہوئے کھڑے ہوئے کہ لوگوں کو سمجھاؤ کہ اپنے معبودوں پر قائم رہو یہ بات تو کسی اور ہی مقصد کے لیے کہی جا رہی ہے۔ یہ بات ہم نے پہلے زمانہ میں کسی سے نہیں سنی یہ تو ایک بناوٹی بات ہے۔“ اس لیے اہل مکہ نے تین سو ساٹھ بت بیت اللہ میں رکھے ہوئے تھے۔ ہندوؤں کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہندو تینتیس کروڑ خداؤں کے قائل ہیں۔ یہی حال کلمہ پڑھنے والوں کی اکثریت کا ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں سے مدد مانگتے ہیں۔ (فَاِذَا رَکِبُوْافِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجّٰہُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ہُمْ یُشْرِکُوْنَ) (العنکبوت : ٦٥) ” جب کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس سے مانگتے ہیں۔ جب اللہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک شرک کرنے لگتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں ” اَحَدٌ“ کا لفظ استعمال فرما کر ایک سے زائد خداؤں اور معبودوں کی نفی کردی ہے۔ قرآن مجید نے عقلی اور علمی دلائل کی بنیاد پر ثابت کیا ہے کہ ایک ” اللہ“ ہی ” الٰہ واحد“ ہے۔ اس کے سوا کائنات میں کوئی الٰہ تھا اور نہ ہے اور نہ ہوگا۔ لہٰذا ” اَللّٰہُ اَحَدٌ“ میں اس کی ذات اور صفات میں شرک کرنے والوں کی نفی کی گئی ہے۔