سورة النسآء - آیت 117

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَّرِيدًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مشرک لوگ خدا کے سوا نہیں پکارتے ، مگر مورتوں اور شیطان سرکش کو (ف ١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ یہاں شرک کی ایک اور قسم بیان کی گئی ہے۔ یہاں شرک کی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ دیویوں کی عبادت کرتے ہیں جو حقیقتاً شیطان کی عبادت کرنے کے مترادف ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے شرک نوح (علیہ السلام) کی قوم میں پیدا ہوا۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنے بزرگوں کے مجسمے تراشے ان میں سب سے بڑے بت کا نام سواع تھا سواع عورت کی شکل پر بنایا گیا اس کا معنی ہے ” انتظام و انصرام کرنے والی دیوی“۔ مشرکین مکہ لات، منات اور عزیٰ کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا وسیلہ بناتے تھے۔ یہ سب کے سب عورتوں کے نام ہیں۔ ہندؤوں اور بدھ مت کے مندروں میں جاکر ملاحظہ فرمائیں جن مورتیوں کو وہ اللہ کا اوتار سمجھتے ہیں ان کی شکلیں نہایت ہی پرکشش، جاذب نظر عورتوں کے مشابہ بنائی گئی ہیں۔ یونان میں بھی دیویوں کی پوجا ہوتی تھی اور بعض قومیں فرشتوں کی اس لیے عبادت کرتی ہیں کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی پاک اور خوبصورت بیٹیاں گردانتے ہیں۔ گویا کہ دنیا میں ہر دور کے مشرکوں کی اکثریت عورتوں کی پرستار رہی ہے۔ یہاں تک کہ عیسائی بھی حضرت مریم [ کو اللہ تعالیٰ کی بیوی یا ذات کبریا کا حصہ سمجھ کر اس کی عبادت کرتے ہیں۔ جس کی اللہ تعالیٰ نے یوں تردید فرمائی : اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمان کو کسی نمونے اور اسباب کے بغیر پیدا کرنے والا ہے لہٰذا اس کی اولاد اور بیوی کس طرح ہو سکتی ہے؟ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ [ الانعام : ١٠٢] سورۃ اخلاص میں بڑے سادہ اور مختصر الفاظ میں ہر قسم کے شرک کی تردید کی گئی ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے والے عورتوں اور شیطان کو پکارتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن مشرک شیطان کی عبادت کرتا ہے : ١۔ اے بنی آدم ! شیطان کی عبادت نہ کرو۔ (یٰس : ٦٠) ٢۔ آزر کو شیطان کی عبادت نہ کرنے کی تلقین۔ (مریم : ٤٤) بتوں کے نام عورتوں کے نام پر : ١۔ مشرک ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ کر عبادت کرتے ہیں۔ (النجم : ٢٨) ٢۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور کے بتوں کے نام۔ (نوح : ٢٣) ٣۔ مشرکین مکہ کے بتوں کے نام۔ (النجم : ١٩، ٢٠)