سورة الغاشية - آیت 1

هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بھلا تیرے پاس ڈھانپنے والی کا حال پہنچا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا جانے والی کی خبر پہنچی ہے ؟ اس دن مجرموں کے چہرے ذلیل ہوں گے اور وہ اپنی محنت کی وجہ سے انتہائی تھکے ماندے دکھائی دیں گے۔ انہیں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے گا اور ان کو انتہا درجے کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، ان کے لیے کانٹے دار جھاڑیوں کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جس سے نہ وہ موٹے ہوں گے اور نا ہی ان کی بھوک میں کچھ کمی آئے گی۔ ” عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ“ کے مفسرین نے کئی مفہوم بیان کیے ہیں۔ 1۔ یہ لوگ دنیا میں بہت زیادہ محنت کے ساتھ نیک اعمال کرتے رہے مگر شرک وبدعت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے تمام اعمال غارت ہوجائیں گے۔2۔ یہ لوگ اپنے اعمال کا انجام دیکھیں گے تو ان کی مایوسی اور تھکاوٹ اس قدر بڑھ جائے گی کہ دیکھنے والا انہیں یوں محسوس کرے گا جسے ان کی ابھی جان نکل جائے گی۔3۔ جہنم کی بلاؤں اور سزاؤں کی وجہ سے ان کے جسم چکنا چور دکھائی دیں گے۔ (عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْمًا وَلاَ صَلاَۃً وَلاَ صَدَقَۃً وَلاَ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً وَلاَ جِہَادًا وَلاَ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً یَخْرُجُ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ) (رواہ ابن ماجہ : باب اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ) ” حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بدعتی کا روزہ، نماز، حج، عمرہ، جہاد، اور کوئی چھوٹی بڑی نیکی قبول نہیں کرتا، ایسا شخص اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔“ (وَقَدِمْنَآ اِِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنْثُورًا) (الفرقان : ٢٣) ” اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے ہم ذرّات کی طرح اڑادیں گے۔“ مسائل ١۔ قیامت کی ہولناکیاں ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہوں گی۔ ٢۔ قیامت کے دن مجرموں کے چہرے تھکے ہوئے اور انتہائی ذلیل ہوں گے۔ ٣۔ مجرم انتہائی تھکے ماندے ہوں گے۔ ٤۔ جہنمی کو پینے کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی اور کھانے کے لیے خاردار جھاڑیاں دی جائیں گی۔ ٥۔ جہنم کی خوراک نہ ان کی بھوک ختم کرے گی اور نہ وہ موٹے تازے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنمی کا خوردو نوش : ١۔ کانٹے دار جھاڑیوں کا کھانادیا جائے گا۔ (الغاشیہ : ٦) ٢۔ کھانا گلے میں اٹک جائے گا۔ (المزمل : ١٣) ٣۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ (الانعام : ٧٠) ٤۔ دوزخیوں کو پیپ پلائی جائے گی۔ (عم : ٢٥) ٥۔ آنتوں اور کھالوں کو بار بار بدلہ جائے گا۔ (النساء : ٥٦) ٦۔ جہنمی کی کھال بار بار بدلی جائے گی۔ (الحج : ٢٠) ٧۔ انہیں آگ کا لباس پہنایا جائے گا۔ (الحج : ١٩) ٨۔ لوہے کے ہتھوڑوں سے سزا دی جائے گی۔ (الحج : ٢١، ٢٢) ١٠۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ (الانعام : ٧٠)