سورة الطارق - آیت 11

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

آسمان (ف 1) مینہ والے کی قسم

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس خالق نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ ہر صورت اسے قیامت کے دن اٹھا کر اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بات فرما کر زمین و آسمان کی قسم اٹھائی ہے کہ قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے اور قسم ہے اس زمین کی جو پھٹ جاتی ہے کہ ” اللہ“ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ کوئی بے مقصد بات نہیں ہے۔ یہاں تک جو لوگ تدبیریں اور سازشیں کررہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم بھی تدبیر کرنے والے ہیں اور ہماری تدبیر کے مقابلے میں کسی کی تدبیر اور سازش اسے فائدہ نہیں دے سکتی لہٰذا کفار کو تھوڑی سی مزید مہلت دیں۔ اس مقام پر آسمان کے لیے ” ذات الرجع“ اور زمین کے لیے ” ذَات الصَّدْعِ“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس کا مفسرین نے یہ معنی لیا ہے کہ آسمان سے بارش کی صورت میں جو پانی برستا ہے اس کا کافی حصہ بخارات کی صورت میں اڑ کر فضا میں بادلوں کی شکل اختیار کرتا ہے اور پھر وہی بارش کی صورت میں برستا ہے گویا کہ ایک سرکل (CIRCLE) چل رہا ہے۔ زمین کے لیے ” ذَات الصَّدْعِ“ کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ جب اس سے بیج نکلتا ہے تو زمین اپنا سینہ کھول دیتی ہے یعنی پھٹ جاتی ہے۔ اسی طرح ہی قیامت کے دن پھٹ جائے گی اور لوگ اس سے نکل کھڑے ہوں گے۔ زمین اور آسمان کی قسم اٹھا کر واضح کیا ہے کہ انسان کا اللہ کی طرف لوٹنا فیصلہ کن بات ہے۔ ہر انسان کو بارش کے برسنے اور زمین کے پھٹنے پر غور کرنا چاہیے کہ جس طرح بارش برسنے سے زمین سے بیج اگتے ہیں، اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ انسان کو قیامت کے دن پیدا کرے گا۔ یہ مذاق یا فضول بات نہیں ہے۔ اگر قیامت کا انکار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ فی الفور نہیں پکڑتا تو اس میں اس کی حکمت یہ ہے کہ کفار کو اپنی سازشیں اور شرارتیں کرنے کا موقع دیا جائے۔ اسی بات کو آل عمران میں یوں بیان کیا ہے۔ (وَ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ اِنَّہُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَلَّا یَجْعَلَ لَہُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَۃِ وَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِہِمْ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْٓا اِثْمًا وَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ) (آل عمران : ١٧٦ تا ١٧٨) ” آپ کو کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ پریشان نہ کریں یہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ کفر کو ایمان کے بدلے خریدنے والے۔ اللہ کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ کافر ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں ہم نے یہ مہلت اس لیے دی ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں اور ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کن ارشاد ہے کہ وہ ہر انسان کو قیامت کے دن اٹھائے گا اور اس کے تمام راز آشکارہ کرے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان فیصلہ کن ہے یہ مذاق اور بے مقصد بات نہیں ہے۔ ٣۔ کفار اور مشرکین اسلام کے بارے میں سازشیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کے خلاف تدبیر کرنے والا ہے۔ تفسیربالقرآن قیامت کے دن ہر صورت انسان کو اٹھنا اور اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے : ١۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے واپس جانا ہے۔ (الرعد : ٣٦) ٢۔ ” اللہ“ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : ٨٥) ٣۔ زمین اور جو کچھ اس میں ہے ہم اس کے وارث ہیں اور لوگ ہماری طرف لوٹیں گے (مریم : ٤٠) ٤۔ اللہ کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور اسی کے سامنے ہر کسی کو لوٹ کر جانا ہے۔ (الزمر : ٤٤) ٥۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اسی کے حضور تم نے پیش ہونا ہے (یونس : ٥٦)