سورة المطففين - آیت 18

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ہرگز نہیں بےشک نیکوں کے اعمالنامے علیین (اوپر والوں) میں ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔ سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے ا عمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں گے انہیں پیک شدہ (Sealed) شراب پلائی جائے گی جس پر بے مثال قسم کی خوشبو کی مہر ثبت ہوگی اس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت میں پانی کا ایسا چشمہ ہے جس کے پانی کو شراب کے ساتھ ملا کر اللہ کے مقرب بندے پئیں گے، جو لوگ اپنے رب کی نعمتوں کا شوق اور ذوق رکھتے ہیں انہیں جنت اور اس کی نعمتوں کے حصول کے لیے کوشش تیز کردینی چاہیے۔ ان آیات میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جس طرح مجرموں کی ہر حرکت سجیّن میں اندراج کی جاتی ہے اسی طرح ہی نیک لوگوں کا چھوٹا بڑا عمل علییّن میں درج کیا جاتا ہے اور یہ جنتیوں کے ناموں کا دفتر ہے جس کا نام علییّن ہے جو ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور اس کی حفاظت اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں۔ مسائل ١۔ ” اللہ“ کے نیک بندوں کے نام اور کام علیین میں لکھے جاتے ہیں۔ ٢۔ علیین ایک دفتر ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں۔ ٣۔ جنتی لوگ جنت کے تختوں اور تکیوں پر بیٹھ کر جنت کے نظارے کریں گے۔ ٤۔ جنتی کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیں گے۔ ٥۔ جنتی کو مہر بند شراب دی جائے گی جس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ ٦۔ تسنیم جنت کے چشموں میں سے ایک چشمے کا نام ہے جس سے اللہ کے مقرب بندے سیر یاب ہوں گے۔ ٧۔ جنت کی نعمتوں کا شوق رکھنے والوں کو اس کے لیے رغبت اور محنت کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں اور جنتیوں کے چہرے میں فرق : ١۔ متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦۔ ٢٧) ٢۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلّت اور نحوست نہیں ہوگی اور وہ جنت میں قیام کریں گے۔ (یونس : ٢٦) ٣۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (الغاشیہ : ٨) ٤۔ مومنوں کے چہرے خوش وخرم ہوں گے۔ (عبس : ٣٨) ٥۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامہ : ٢٢) ٦۔ مومنوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : ٧٣) ٧۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلّت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : ٢٧) ٨۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوں ہو گے۔ (الحج : ٧٣) ٩۔ کفّار کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : ٤٠) ١٠۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامہ : ٢٤)