سورة التكوير - آیت 15

فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سو میں پیچھے ہٹنے والوں کی قسم کھاتا ہوں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی دعوت کا تیسرا مضمون قیامت ہے جو ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل مکہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ اس وجہ سے قرآن مجید کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ ” اللہ“ کی کتاب ہے۔ اس لیے یہاں ایک مرتبہ پھر وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کے بنیادی مضامین تین ہیں۔ توحید، رسالت اور آخرت۔ باقی مسائل انہیں کی تفصیل اور تقاضے ہیں۔ قرآن مجید ان عقائد پر بار بار زور دیتا ہے کیونکہ مکہ کے لوگ کسی نہ کسی انداز میں ان تینوں باتوں کا انکار کرتے تھے جس بنا پر ان کی کوشش تھی کہ لوگوں کی نظروں میں قرآن مجید کو ہی مشکوک بنا دیا جائے۔ اس لیے کبھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کاہن اور دیوانہ کہتے اور کبھی قرآن مجید کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ شیطانی اور شاعرانہ خیالات کا مجموعہ ہے۔ قرآن مجید نے ان کے الزامات کا ہر موقع پر مدلل اور مؤثر جواب دیا لیکن پھر بھی وہ پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ اس موقع پر ان کی ہرزہ سرائی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں اٹھائی ہیں۔ میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے اور چھپ جانے والے ستاروں کی، میں قسم کھاتاہوں رات کی جب وہ رخصت ہوتی ہے اور میں قسم کھاتا ہوں صبح کی جب وہ نمودار ہوتی ہے۔ قسمیں کھانے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح یہ باتیں حقیقت ہیں اسی طرح قرآن بھی ایک حقیقت ہے یہ ایک معززفرشتے کا کلام ہے جو بڑی ہی طاقت والاہے جو عرش والے یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مرتبہ ہے۔ اس کا فرشتوں میں حکم مانا جاتا ہے اور وہ بڑا امانت دار ہے۔ اس کے رب کی طرف سے جو اسے حکم صادر ہوتا ہے وہ جوں کا توں آگے پہنچا دیتا ہے۔ اے مکہ والو! تمہارا ساتھی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوانہ نہیں ہے۔ اس نے پیغام پہنچانے والے ملائکہ کے سردار جبرائیل (علیہ السلام) کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ رسول پرجو غائب کی باتیں نازل کی جاتی ہیں انہیں پہنچانے میں بخل اور کمزوری سے کام نہیں لیتا بعض مفسرین نے رسول سے مراد جبریل امین لیے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ میں دونوں معنوں کی گنجائش موجود ہے۔ قرآن مجید رب العالمین کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اس میں شیطان کا کسی لحاظ سے رائی برابر عمل دخل نہیں یہ ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے۔ یادرکھو! تمہاری چاہت اور مخالفت کی بنا پر کچھ نہیں ہوسکتا، وہی ہوتا ہے جو رب العالمین چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں قرآن مجید کو جبریل امین کا قول قرار دیا ہے اور سورۃ الحاقہ کی آیت ٤٠ میں اسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول فرمایا ہے جس کا یہ معنٰی نہیں کہ قرآن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا جبریل امین کا کلام ہے۔ اس کا حقیقی معنٰی یہ ہے کہ قرآن مجید کسی شاعر یا شیطان کا کلام نہیں اور نہ ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا کلام ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے جبریل امین اپنی زبان سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تلاوت کرتے ہیں، گویا کہ قرآن مجید صرف اور صرف رب العالمین کا کلام ہے جو نصیحت کے طور پر اتارا گیا ہے۔ اس میں کسی فرشتے، انسان اور شیطان کا کوئی عمل دخل نہیں یہ ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے۔ جہاں تک کفار کی مخالفت کا معاملہ ہے انہیں کان کھول کر سن لینا چاہیے کہ ان کے چاہنے اور مخالفت سے کچھ نہیں ہوگا، وہی ہوگا جو رب العالمین چاہتا ہے اس کا فیصلہ ہے۔ ” وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔ اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔“ (الفتح : ٢٨) ان آیات میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل امین کو روشن افق پر دیکھا ہے اور آپ غیب کے معاملہ میں بخیل نہیں ہیں اگر اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو غیب سے مراد وہ غیب ہے جو قرآن مجید اور حدیث کی صورت میں آپ پر نازل ہوا ہے اس میں کوئی بات چھپانے کے آپ مجاز نہیں اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی بات چھپائی ہے۔ یقینی طور پر آپ نے ہر بات من وعن بلا خوف وخطر لوگوں تک پہنچا دی ہے اس لیے فرمایا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب پر بخل کرنے والے نہیں ہیں اگر اس سے مراد جبریل ہیں تو معنی ہوگا کہ جبریل نے کسی بات میں بخل نہیں کیا اس نے ہر بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا دی جو اللہ تعالیٰ نے اسے پہچانے کا حکم دیا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید صرف اور صرف اللہ کا کلام ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں جبریل امین بڑے مرتبے کے حامل فرشتے ہیں۔ ٣۔ جبریل امین امانت دار اور ملائکہ کے سردار ہیں۔ ٤۔ وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ رب العالمین چاہتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں اٹھا کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیوانے نہیں ہیں۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید جبریل امین کے ذریعے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا جبریل (علیہ السلام) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلی آنکھوں کے ساتھ روشن افق پر دیکھاتھا۔ ٧۔ قرآن مجید جبریل امین کے ذریعے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا ہے۔ ٨۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی وحی لوگوں تک پہنچانے میں کسی قسم کا بخل اور کمزوری نہیں کی۔ ٩۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔ اس میں کسی فرشتے انسان اور شیطان کا ذرہ بھر عمل دخل نہیں ہے۔ ١٠۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔ ١١۔ کسی کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتاوہی ہوتا ہے جو ” اللہ“ چاہتا ہے۔ تفسیربالقرآن قرآن مجید صرف اور صرف ” اللہ“ کا کلام ہے اس میں کسی کا عمل دخل نہیں ہے : ١۔ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ (الشعراء : ١٩٢) ٢۔ قرآن مجید کسی کاہن و شاعر کا کلام نہیں ہے۔ (الحاقہ : ٤١، ٤٢) (الحجر : ٩) ٣۔ قرآن مجید شیطان کی شیطینت سے پاک ہے۔ (التکویر : ٢٥) (القدر : ١) ٤۔ اللہ قرآن مجید نازل کرنے والا حکمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔ (حم السجدۃ: ٤٢)