سورة عبس - آیت 17

قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

آدمی پرخداکی مار وہ کیسا کچھ ناشکرگزار ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا ہیجس شخص نے قرآن کی نصیحت سے انکار کیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے کہ انسان اس پر اخلاص کے ساتھ عمل پیرا ہو کر قیامت کی جوابدہی کی تیاری کرے اور دنیا میں رہ کر اپنے فکر وعمل کو سنوار لے۔ جس نے اس کا انکار کیا وہ قیامت کے دن پکڑا جائے گا اور جو قیامت کے دن پکڑا گیا وہ تباہ ہوجائے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کون پیدا کرے گا ؟ کیا انکار کرنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک نطفے سے پیدا کیا پھر اس کی پیدائش کا وقت مقرر فرمایا اور پھر اس کے لیے رحم مادر سے نکلنے کا راستہ بنایا، پھر اسے موت دی اور قبر تک پہنچا دیا جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔ انسان اپنی پیدائش سے لے کر قیامت کے دن اٹھنے تک اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مجبور ہے ہر انسان نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے مرتا ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے دوبارہ زندہ ہوگا۔ اللہ کی نافرمانی کرنے والے اور قیامت کے منکر اپنی زندگی کے ایک ایک مرحلے پر غور کریں تو انہیں یقین ہوجائے گا کہ واقعی قیامت کے دن زندہ ہونا اور اپنے رب کے سامنے پیش ہونا برحق ہے کیونکہ جو خالق انسان کو ایک جرثومے سے پیدا فرما کر اس کی پیدائش کا وقت اور اس کی قدوقامت، شکل وصورت اور رحم مادر میں اس کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور پھر اس کی پیدائش کے لیے رحم مادر کا راستہ آسان کرتا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن نہیں اٹھا سکتا؟ کیوں نہیں ! وہ ہر انسان کو ہر صورت قیامت کے دن اٹھائے گا جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق زندگی بسر نہ کی اس کا کڑا حساب لیا جائے گا۔ ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے جو جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم دیتے ہیں پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ تم میں ایک بندہ عمل کرتارہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے وہ جہنمیوں والے کام شروع کردیتا ہے۔ ایسے ہی آدمی برے عمل کرتا رہتا ہے حتٰی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال شروع کردیتا ہے۔“ (رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو ایک نطفے سے پیدا کرتا ہے اور اسے خاص مدت تک رِ حم مادر میں ٹھہرا کر مختلف مراحل سے گزارتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کے لیے رِ حم مادر سے نکلنے کا راستہ آسان کرتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو موت دیتا ہے اور پھر مٹی کے ساتھ مٹی بنا دیتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا قیامت کے دن انسان کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ ٥۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بے شمار انسان اپنے رب کے حکم کی سرتابی کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن پیدائش سے لے کر دوبارہ پیدا ہونے تک انسان کی زندگی کا مختصر خاکہ : ١۔ کیا تو اس ذات کا انکار کرتا ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے تجھے آدمی بنایا۔ (الکہف : ٣٧) ٢۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : ٥٩) ٣۔ اللہ نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : ١٢) ٤۔ حواکو آدم سے پیدا فرمایا۔ (النساء : ١) ٥۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ٦۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ پھر تمہیں بوڑھا کرتا اور کچھ تم میں بڑھاپے سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں اور کچھ اپنی عمر کو پہنچ جاتے ہیں کیا پھر بھی تم عقل نہیں کرتے۔ (المومن : ٦٧)