سورة النسآء - آیت 89

وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

چاہتے ہیں کہ کاش تم کافر ہوجاؤ ، سو تم اور وہ برابر ہوجاؤ ۔ سو تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑیں پھر اگر وہ قبول نہ کریں تو انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں پاؤ اور ان میں سے کسی کو رفیق نہ بناؤ اور نہ مددگار ۔ (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافق حقیقتاً کافر ہوتا ہے اور مسلمانوں کو اسے اس طرح ہی دیکھنا چاہیے۔ اس لیے اس سے قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ منافقوں کو ہرگز دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی رضا کے لیے ہجرت نہ کریں۔ اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں حالت جنگ میں جہاں پاؤ‘ پکڑو اور قتل کر دو۔ ایسے لوگوں کو اپنا دوست اور مددگار نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہجرت کا لغوی معنٰی : ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیز کو ترک کرنا، چھوڑ دینا۔ عرف عام میں دین کی خاطر کسی مقام کو چھوڑنے کا نام ہجرت ہے۔ شریعت کے وسیع تر مفہوم میں ہر اس چیز کو چھوڑ دینا۔ جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے ہجرت کہلاتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : (وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَانَھَی اللّٰہُ عَنْہُ) [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان، باب المسلم من سلم المسلمون] ” مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔“ کن حالات میں ہجرت کا حکم ہے؟ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا کہ مقصد حیات (ایمان) کے لیے ہر چیز قربان کردینا ہی کامل ایمان کی نشانی ہے۔ ایسے ہی جذبات کا مندرجہ ذیل آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ (یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّ أَرْضِیْ وَاسِعَۃٌ فَإِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ) [ العنکبوت : ٥٦] ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! میری زمین بہت وسیع ہے بس تم میری بندگی کئے جاؤ۔“ اس آیت مبارکہ میں و اضح اشا رہ موجود ہے اگر مکے میں اللہ کی بند گی کرنا مشکل ہو رہی ہے تو ملک چھوڑ کر نکل جاؤ۔ ملک خدا تنگ نیست۔ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے جہاں بھی تم اللہ کے بندے بن کر رہ سکتے ہو و ہاں چلے جاؤ۔ (عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ إِنَّمَا الْأَعْمَال بالنِّیَّۃِِ وَإِنَّمَا لِإِمْرِیءٍ مَانَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ إِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ إِلٰی مَاھَاجَرَ إِلَیْہِ) [ رواہ البخاری : کتاب الأیمان والنذور، باب النیۃ فی الأیمان] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمام اعمال کا انحصار نیت پر ہے۔ آدمی جس چیز کی نیت کرے گا وہ اس کے مطابق اجر پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی بس اس کی ہجرت تو واقعی اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے لیکن جس نے دنیا کی خاطر ہجرت کی کہ اس کو دنیا مل جائے یا کسی عورت کے لیے ہجرت کی تاکہ اس سے نکاح کرے اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی۔“ ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے : اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے ہجرت کی تکالیف ومشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسے ایمان کا معیار قرار دیا ہے۔ (مزید دلائل دیکھنا چاہیں تو میری کتاب سیرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مطالعہ فرمائیں) مسائل ١۔ کفار کو کبھی اپنا خیر خواہ اور دوست نہیں سمجھنا چاہیے۔ ٢۔ منافق اور کافر حالت جنگ میں جہاں کہیں ملیں انھیں قتل کردینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن منافق و کفار کو دوست نہ بناؤ: ١۔ منافق و کفار کو دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ: ٥٧) ٢۔ منافق و کفار آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (المائدۃ: ٥١) ٣۔ مومن کفار کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ (آل عمران : ٢٨) ٤۔ محض دنیا کی عزت کی خاطر کفار سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ (النساء : ١٣٩)