سورة عبس - آیت 1

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

تیوری چڑھائی اور منہ موڑا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : النّازعات کے آخر میں بتلایا ہے کہ قیامت کے دن مجرم محسوس کریں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیاں ٹھہرے تھے۔ آخرت کے انکار کے پیچھے دنیا کا مفاد اور عجلت پسندی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے سورۃ عبس میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ فرما کر عجلت پسندی سے منع کیا گیا ہے۔ تمام مفسرین نے اس سورت کے نازل ہونے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں چند قریشی سردار حاضر ہو کر آپ سے اسلام کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم (رض) آئے اور انہوں نے آپ کی گفتگو میں مداخلت شروع کردی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناصرف بے توجہگی اختیار کی بلکہ اس مداخلت کو ناپسند بھی فرمایا۔ آپ کی بے توجہگی کے دواسباب تھے۔ ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کے سرداروں کے ساتھ محو گفتگو تھے حضرت ابن مکتوم نے انتظار کیے بغیر آپ کی خدمت میں سوال کر ڈالا جس وجہ سے آپ کے چہرے پر کچھ ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے۔ ٢۔ آپ کی ناگواری کی دوسری وجہ یہ تھی کہ قریشی سردار بہانہ بنائے ہوئے تھے کہ ہم آپ کی مجلس میں اپنے سے کم درجہ لوگوں کے برابر نہیں بیٹھ سکتے لہٰذا ہم آئیں تو کوئی دوسرا نہیں ہونا چاہیے۔ ان دو وجوہات کی وجہ سے آپ نے ابن ام مکتوم (رض) کی آمد کو ناگوار سمجھا جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو توجہ دلانے کے لیے یہ انداز اختیار فرمایا۔ ” ماتھے پر شکن ڈالی اور چہرہ پھیر لیا کہ ایک اندھا اس کے پاس آیا۔ آپ کو کیا معلوم! شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر توجہ دے اور نصیحت اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ جو شخص بے پروائی کرتا ہے۔ اس کی طرف آپ توجہ کرتے ہیں وہ نہیں سدھرتا تو آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں جو خود آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور ڈرنے والا ہے اس سے آپ بے رخی کرتے ہیں۔“ (عبس : ١ تا ١٠) اس ارشاد سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین کے داعی کو ایک بنیادی اصول بتلایا ہے جسے اپنانے سے نہ صرف دین کی عظمت دوچند ہوتی ہے بلکہ اس سے داعی کے وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جس اصول کی یہاں نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ بے شک دین کے داعی کو ہر وقت اس کوشش میں لگے رہنا چاہیے کہ لوگ دین کی طرف آئیں لیکن اس کے ذہن میں یہ بات بھی رہنی چاہیے کہ دین ایک گراں قدر نعمت ہے لہٰذا اسے باوقار انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے جو اس نعمت کو حقیر سمجھتے ہوں ان پر ابلاغ کی حجّت پوری کرنے کے بعد داعی کو ایسے لوگوں سے بے نیاز ہوجانا چاہیے۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے جو دین کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو کفر و شرک اور ہرقسم کی گندگی سے بچانا چاہتے ہیں اور اپنے رب کی نصیحت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ قرآن تو نصیحت ہے اس لیے جس کا دل چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے اور جو نہیں چاہتا وہ اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس سورت کی پہلی دو آیات میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا اور اس نے تیوری چڑھائی اور چہرہ پھیر لیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن مکتوم (رض) کے نابینا ہونے کی وجہ سے اس سے اعراض کیا تھا۔ یہ بات ناقابل اعتماد ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہایت ہی کریمانہ اخلاق کے مالک تھے اور آپ سے زیادہ کون معذوروں اور غریبوں کا ہمدرد تھا؟ آپ نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم (رض) کے نابینا ہونے کی وجہ سے اعراض نہیں کیا بلکہ ابن مکتوم (رض) نے انتظار کیے بغیر آپ سے سوال کرڈالا جو مجلس کے آداب کے خلاف تھا اسی وجہ سے یہاں آپ کو توجہ دلانے کے لیے مخاطب کی ضمیر استعمال نہیں کی گئی تاکہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں کوئی شخص حرف گیر نہ ہوسکے۔