سورة النسآء - آیت 79

مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جو بھلائی تجھے ملتی ہے سو خدا سے ہے اور جو برائی تجھے پہنچتی ہے سو وہ تیرے نفس کی طرف سے اور ہم نے تجھے آدمیوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ گواہ کافی ہے (ف ١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نقصان پہنچنے پر منافق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو ذمہ دار ٹھہراتے اس ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے اصل حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ لیکن انسان کو پہنچنے والے نقصان کا بنیادی سبب اس کے ذاتی کسب و عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ نفع ہو یا نقصان ہر ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی مختار کل اور نفع و نقصان کا مالک ہے۔ اس آیت میں اس کی یوں تشریح فرمائی ہے کہ انسان کو پہنچنے والی اچھائی اور فائدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے۔ جہاں تک برائی اور نقصان کا معاملہ ہے یہ انسان کی اپنی کوتاہی اور بے تدبیری کا صلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تودنیا میں کسی کی غلطی سے درگزر فرمائے نہ چاہے تو کوتاہی کے بدلے سرزنش یا سزا کے طور پر آدمی کی گرفت فرمائے۔ یہی بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید سمجھاتے ہوئے بیان فرمائی تھی کہ شفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بیماری اپنی طرف سے ہوتی ہے۔ [ الشعراء : ٨٠] یہاں یہ اصول سمجھانے کے بعد فرمایا اے رسول مکرم! آپ کو دل چھوٹا کرنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ خود لوگوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوئے یہ تو ہم نے آپ کو پوری انسانیت کی طرف اپنا پیغام دینے والا بنا کر بھیجا اور کھڑا کیا ہے۔ لوگ تمہاری رسالت کی گواہی دیں تو یہ ان کی خوش نصیبی ہے اگر یہ انکار کردیں تو تمہیں بھیجنے والا اللہ شہادت دیتا ہے کہ آپ اس کے سچے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی شہادت تمام شہادتوں سے بڑھ کر ہے کوئی گواہی اس کی گواہی سے بہتر اور معتبر نہیں ہو سکتی۔ اس کی گواہی کے بعد کسی گواہی کی ضرورت نہیں رہتی۔ در اصل لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ آپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جس نے آپ کی اطاعت کی حقیقتاً اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تمہیں ہم نے ان پر نگہبان اور دربان بنا کر نہیں بھیجا اور نہ ہی آپ سے سوال ہوگا کہ آپ کے ہوتے ہوئے یہ لوگ کافر و مشرک کیوں رہے؟ آپ کا کام تو بات سمجھانا اور پہنچانا ہے یہ فرض آپ کما حقہٗ پورا کر رہے ہیں۔ نفع و نقصان کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عقیدہ اور فرمان : (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّیْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلآی أَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلآی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَیْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا آپ نے فرمایا : بچے! میں تجھے چند کلمات سکھاتاہوں تو اللہ کے احکامات کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا تو اللہ کو یاد کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرنا اور یقین رکھ کہ اگر تمام لوگ تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائیں۔ وہ اتنا ہی نفع دے سکتے ہیں جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان دینے پہ تل جائیں۔ تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔“ مسائل ١۔ اچھائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نقصان انسان کی کوتاہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نفع و نقصان کا مالک نہیں بنایا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی پر گواہ ہے۔ ٤۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت حقیقت میں اللہ کی اطاعت ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تفسیر بالقرآن عالمگیر نبوت : ١۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (الاعراف : ١٥٨) ٢۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کے رسول ہیں۔ (سباء : ٢٨) ٣۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : ٤٥) ٤۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : ١٠٧) ٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : ٤٠)