سورة الإنسان - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(شروع) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والاہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ الدّھر کا تعارف اس سورت کا نام اس کی پہلی آیت میں موجود ہے یہ مدنی سورت ہے اس کی اکتیس آیات ہیں، جنہیں دو رکوع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ الدّھر کا معنٰی زمانہ ہے اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء میں ہر انسان کو اس کا وہ دور یعنی زمانہ یاد کروایا ہے جب انسان کا اس کائنات میں ذکر اور وجود نہیں تھا۔ یہ کیفیت ہر انسان پر اس لیے چسپاں ہوتی ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے اس کے ماں باپ کو بھی علم نہیں ہوتا کہ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہوگا یا بچی، خوبصورت ہوگا عام صورت یا غریب ہوگا یا خوشحال لہٰذا ہر اعتبار سے ہر انسان اپنی پیدائش سے پہلے غیر متعارف ہوتا ہے۔ انسان کو اس کا ماضی یاد کروانے کے بعد اس کی تخلیق یاد کروائی ہے کہ ہم نے انسان کو ایک مخلوط لوتھڑے سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں یہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے۔ اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ہے۔ ہم نے اسے راستے کی راہنمائی کی ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ شکر کرنے والا بنتا ہے یا کفر پسند کرتا ہے۔ کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے طوق اور زنجیریں اور جہنم تیار کیا ہے۔ شکر کرنے والے جنت میں ہونگے اور وہ شراب کے ایسے جام پئیں گے جن میں کافور ملا ہوا ہوگا وہاں اس کا ایک چشمہ ہوگا۔ جس سے جنتی اپنی مرضی کے ساتھ اس سے نہریں نکالیں گے۔ جنتیوں کے اوصاف میں یہ وصف بھی ہوں گے کہ وہ دنیا میں اپنی نذریں پوری کرتے تھے۔ اللہ کی محبت میں مساکین، یتامیٰ اور قیدیوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے اور قیامت کے دن سے ڈرا کرتے تھے۔ ان کے نیک اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن کی سختیوں سے بچائے گا اور انہیں خوش کرے گا۔ انہیں جنت میں ریشمی لباس پہنایا جائے گا، وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے، انہیں نہ سردی چھوئے گی اور نہ گرمی لگے گی۔ ان کے سامنے جنت کے خدام شیشے اور چاندی سے بنے ہوئے شراب کے ایسے جام پیش کریں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ ان کی خدمت کرنے والے خدام ایسے لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے۔ دیکھنے والا انہیں چلتے پھرنے موتی محسوس کرے گا۔ جنتی جدھر نظر اٹھائیں گے ایک سے ایک بڑھ کر جنت کی نعمتیں پائیں گے، اور انہیں بہت بڑی جنت عطاء کی جائے گی۔ اس سورت کے آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو براہ راست ارشاد ہوا کہ ہم نے آپ پر قرآن مجید نازل کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کے عقائد اور کردار کی اصلاح کریں۔ اس راستے میں جو مشکلات پیش آئیں ان پر صبر کریں اور کسی حال میں بدکردار اور حق کا انکار کرنے والے کے پیچھے نہیں چلنا۔ آپ کو چاہیے کہ صبح و شام اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں اور رات کے طویل اوقات میں اپنے رب کو سجدے کریں گے اور اسے یاد کریں جو لوگ آپ کی دعوت کا انکار کرتے ہیں حقیقت میں وہ دنیا سے محبت کی وجہ سے قیامت کے دن کو بھول چکے ہیں انہیں یاد نہیں کہ ہم نے انہیں پیدا کیا، ہم نے ان کے جوڑ بناے اور ہم جب چاہیں ان کی شکل و صورت کو بدل سکتے ہیں ہم نے انہیں ایک مدّت کے لیے ڈھیل دی ہے اب جو چاہے اپنے رب کا راستہ اختیار کرے یا اس کی نافرمانی میں لگا رہے البتہ انہیں معلوم ہونا چاہیے جو اپنے رب کا راستہ اختیار کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کا راستہ اختیار کرے گا ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہوگا۔