سورة القيامة - آیت 24

وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور کتنے منہ اس دن اداس (ف 1) ہونگے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نیک لوگوں کے مقابلے میں آخرت کا انکار کرنے والوں کا حال۔ جوں ہی قیامت کے منکرین کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے تو ان کے رنگ پیلے اور چہرے بجھ جائیں گے وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ ہمارے ساتھ کمرتوڑ سلوک ہونے والاہے، کمرتوڑ سلوک سے مراد انتہادرجے کی ذلّت اور سزا ہے۔ اس مشکل گھڑی کی ابتدا اسی وقت سے ہوجائے گی جب ان پر موت وارد ہوگی۔ ایسے آدمی کی موت کے وقت یہ حالت ہوتی ہے جیسے اس کی جان ہنسلی میں آکراٹک گئی سو یہ ایسا وقت ہے جب کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور اس کے لواحقین اس وقت کہتے ہیں کہ اب کسی سے دعا کروانی چاہیے۔ جن کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے وہ تعویذ، گنڈھے اور جھاڑ پھونک کے پیچھے بھاگتے ہیں حالانکہ مرنے والا سمجھ جاتا ہے کہ میرا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ اس کی ایک پنڈلی دوسری پنڈلی کے ساتھ لگ جاتی ہے یعنی اسے انتہا درجے کی کمزوری لاحق ہوجاتی ہے کیونکہ انسان کی روح اس کے پاؤں کی طرف سے نکل کر اس کے سر کی طرف سے پرواز کرتی ہے۔ اس لیے پنڈلیوں کی کمزوری کا پہلے ذکر کیا ہے یہاں تک اس کے عزیز و اقرباء بھی اس کے ہاتھ پاؤں سیدھے کرنے شروع کردیتے ہیں تاکہ موت کے بعد اس کا وجود ٹیڑا نہ ہوجائے۔ (وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلآءِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَ اَدْبَارَہُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ) (الانفال : ٥٠) ” اور کاش ! آپ دیکھیں جب فرشتے کافر لوگوں کی جان قبض کرتے ہیں تو ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ جلا دینے والا عذاب چکھو۔ (عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ مِنَ السَّمَآءِ مَلَآءِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمُ الْمُسُوْحُ فَیَجْلِسُوْنَ مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَجِیْءُ مَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ فَیَقُولُ أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ اخْرُجِیْٓ إِلَی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِیْ جَسَدِہٖ فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ) (رواہ أحمد : مسند براء بن عازب) ” حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب دنیا سے کافر کا رخصت ہونے اور موت کا وقت آ تا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے اترتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ کا لباس ہوتا ہے، فرشتے فوت ہونے والے کافر سے حد نگاہ تک دور بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت اس کے سرہانے آکر کہتا ہے۔ اے خبیث جان۔ اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر پھر روح اس کے جسم سے الگ ہوتی، فرشتے اسے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گرم سلاخ کو روئی سے کھینچا جاتا ہے۔“ مسائل ١۔ آخرت کے دن بہت سے چہرے مایوس ہوں گے اور وہ اس خیال میں ہوں گے کہ ہم پر بھاری مصیبت ٹوٹنے والی ہے۔ ٢۔ برے انسان کو موت کے وقت ہی اپنے انجام کا پتہ چل جاتا ہے۔ ٣۔ فوت ہونے والے اکثر لوگوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ٤۔ موت کے وقت آدمی کی پنڈلی سے پنڈلی جڑ جاتی ہے۔ ٥۔ موت کے وقت اس کے لواحقین دوا کی بجائے دعا پر زیادہ متوجہ ہوتے ہیں۔ تفسیربالقرآن قیامت کے دن برے لوگوں کے چہرے مایوس اور ذلیل ہوں گے : ١۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : ٧٣) ٢۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامہ : ٢٤) ٣۔ کفارکے چہروں پر گردوغبار ہوگا۔ (عبس : ٤٠) ٤۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اوراُوندھے ہوں گے۔ (الغاشیہ : ٢) ٥۔ اللہ تعالیٰ کفار کو ان کے چہروں کے بل اوندھا کرکے اٹھائے گا یہ ان کی سزا ہے۔ (الاسراء : ٩٧ تا ٩٨) ٦۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور انہیں اللہ تعالیٰ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ (یونس : ٢٧)