سورة البقرة - آیت 48

وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اس دن سے ڈرو جس میں کوئی (نافرمان منکر) کسی دوسرے مجرم (منکر) کے کچھ بھی کام نہ آئیگا اور نہ اسکی طرف سے نہ شفاعت (سفارش) قبول ہوگی اور نہ اس کے بدلے میں کچھ لیا جائیگا اور نہ انکو مدد پہنچے گی (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل سے دوسرا خطاب جاری ہے۔ دنیا کی عدالتوں میں مجرم جن طریقوں سے بچ نکلتے ہیں وہ چار ہیں۔ (١)۔ حقیقی مجرم کی جگہ دوسرے کو پھنسا دینا۔ (٢)۔ شخصی سفارش کے ذریعے مجرم کو بچا لینا۔ (٣)۔ رشوت کے ذریعے بچ نکلنے میں کامیاب ہونا۔ (٤)۔ سیاسی دباؤ کے ذریعے مجرم کا رہائی پانا۔ یہاں بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے ہر فرد کو باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ ہتھکنڈے دنیا کی بے انصاف عدالتوں‘ رشوت خورججوں، کمزور اور غلط عدالتی نظام میں تو چل سکتے ہیں۔ جس وجہ سے مظلوم سر چھپاتے اور ظالم دندناتے پھرتے ہیں۔ لیکن اللہ کی عدالت میں ان باتوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ محشر کے میدان میں کسی مجرم کو دم مارنے اور آنکھ اٹھا کر دیکھنے اور بلا اجازت بولنے کی بھی جرأت نہ ہوگی۔ اس دن کوئی نفس اور کوئی متاع کام نہ آئے گا۔ قرآن مجید نے ان اصولوں کو مختلف مقامات اور انداز میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ کسی مجرم کے دل میں چھوٹ جانے کا تصور بھی پیدا نہ ہوسکے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ) قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَابَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِیْ مَاشِءْتِ مِنْ مَالِیْ لَآأُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا) (رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو! اپنے لیے کچھ کر لومیں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے بنی عبد منا ف میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا‘ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا، اور اے صفیہ ! رسول کی پھوپھی! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا اور اے فاطمہ بنت محمد! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِکُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَۃٌ مُسْتَجَابَۃٌ فَتَعَجَّلَ کُلُّ نَبِیٍّ دَعْوَتَہٗ وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَھِیَ نَآءِلَۃٌ إِنْ شَآء اللّٰہُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِیْ لَایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب اختباء النبی دعوۃ الشفاعۃ لأمتہ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے ہر نبی نے اپنی دعا کرنے میں جلدی کی میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے وہ میری امت کے ہر اس شخص کو فائدہ دے گی جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا۔“ مسائل ١۔ قیامت کے دن رشتہ دار، غلط سفارش اور مال مجرم کو کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ تفسیر بالقرآن سفارش کی گنجائش نہیں : ١۔ کون ہے جو اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے۔ (البقرۃ: ٢٥٥) ٢۔ دوستی اور سفارش کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ: ٢٥٤) ٣۔ مجرموں کو سفارش کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ (المدثر : ٤٨) ٤۔ ظالموں کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارشی۔ (المؤمن : ١٨) ٥۔ کافروں کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (انعام : ٥١) ٦۔ بزرگ اور سرداربھی سفارش نہ کریں گے۔ (الروم : ١٣) نوٹ : فدیہ کے بارے میں البقرۃ:123 دیکھیے۔