سورة المدثر - آیت 1

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اے لحاف میں لپٹنے والے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : سورۃ المزمل کی ابتداء اور اس کے آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تہجد کا ایک فائدہ یہ بتلایا گیا کہ تہجد کی نماز انسان میں ضبط نفس اور مستعدی پیدا کرتی ہے۔ المدثر کے آغاز میں حکم ہوا کہ اب آرام کا وقت ختم ہوا اس لیے ” اللہ“ کے راستے میں اٹھ کھڑے ہوں اور اپنا لباس پاک صاف رکھیں، شرک کی نجاست سے دور رہیں، تبلیغ کا کام کسی معاوضہ کی غرض سے نہ کریں اور اس راستے میں آنے والے مصائب پر صبر کرتے رہیں۔ سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک مدت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل نہ ہوئی۔ اس مدت کے بارے میں محدثین اور مفسرین میں اختلاف ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایک سال تک وحی نازل نہیں ہوئی لیکن ثقہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سورۃ العلق کے نزول کے کچھ دن بعد سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ جن کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ (وَعَنْ جَابِرٍ (رض) اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَۃِ الْوَحْیِ قَالَ فَبَیْنَا اَنَا اَمْشِیْ سَمِعْتُ صَوْتًا عَنِِ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِیْ فَاِذَاالْمَلَکُ الَّذِیْ جَآءَ نِیْ بِحِرَاءَ قَاعِدٌ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ فَجُءِثْتُ مِنْہُ رُعْبًاحَتّٰی ھَوَیْتُ اِلَی الْاَرْضِ فَجِءْتُ اِلٰی اَھْلِیْ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْنِْی فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی (یَا اَیُّھَاالْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَفَاھْجُرْ) ثُمَّ حَمِیَ الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ) (رواہ مسلم : باب بَدْءِ الْوَحْیِ إِلَی رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ وحی کے منقطع ہونے کے بارے فرما رہے تھے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے آواز سنی۔ نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو میرے پاس حراء میں آیا تھا، وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس سے مجھے اتنا خوف لاحق ہوا کہ میں زمین کے ساتھ لگا جا رہا تھا۔ میں واپس اپنے گھروالوں کے پاس آیا اور انہیں کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑادو۔ انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ” اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑے ہو جاؤاور مخلوق کو اپنے رب کی کبریائی سے ڈراؤ اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھو، اور شرک سے کنارہ کش رہو اس کے بعد پے در پے اور مسلسل وحی آنے لگی۔“ المدّثرکا آغاز بھی بڑے دلرُبا انداز میں ہوا۔ ارشاد ہوا کہ اے کپڑا اوڑھنے والے ! اللہ کے راستے میں کھڑے ہوجاؤ اور لوگوں کو ان کے برے اعمال کے برے انجام سے ڈراؤ اور لوگوں کو اپنے رب کی کبریائی سے آگاہ فرماؤ۔ یہ حکم سننے کے بعد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے راستے میں کھڑے ہوئے اور تیئس سال تک اس دعوت کے لیے کھڑے رہے نہ کاروبار کی طرف توجہ فرمائی اور نہ ہی اپنے آرام کا خیال رکھا۔ تہجد کی نماز میں بھی یہی فکر دامن گیر رہی اور دن بھی اسی کام میں گزرے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کئی بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ میرے نبی! اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو کیا آپ ان کے لیے اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے ؟ (الشعراء : ٣، الکھف : ٦) المدّثر کی ابتدائی آیات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بنیادی ہدایات دی گئیں جو ہر مبلغ اور راہنما کے لیے ضروری ہیں۔ ١۔ راہنما اور مبلغ کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوم کو خطرات سے آ گاہ کرے، بالخصوص آخرت کے بارے میں لوگوں کو متنبہ کرتا رہے کیونکہ فکر آخرت کی بنیاد پر ہی انسان اپنے افکار اور کردار کو ٹھیک کرسکتا ہے، جو شخص آخرت کی جواب دہی سے لاپرواہ ہوجائے اس کا درست ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رشتہ داروں اور ساتھیوں کو آخرت کے بارے میں ان الفاظ میں ڈرایا کرتے تھے۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْءًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ) (رواہ البخاری : باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم) ” حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام کریں گے، اللہ اور اس شخص کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، آدمی دیکھے گا تو سامنے آگ ہوگی تم میں جو استطاعت رکھتا ہے وہ آگ سے بچے چاہے اسے کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنا پڑے۔۔ جو یہ نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے۔“ (یَافَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَاصَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَاأَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِءْتُمْ) (رواہ مسلم : باب فی قولہ وأنذر عشیرتک الأقربین) ” اے محمد کی بیٹی فاطمہ اور عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ اور اے عبدلمطلب کی اولاد۔ میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا البتہ میرے مال میں سے جتنا چاہو مطالبہ کرسکتے ہو۔“ ٢۔ رَبَّکَ فَکَبِّرْ: جس بات سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور ڈرانا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی ہے اگر انسان کو اپنے رب کی بڑائی اور کبریائی کا احساس ہوجائے تو وہ کبھی جان بوجھ کر اس کی نافرمانی نہ کرے۔ ہر انسان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے انسان کو پکڑ سکتا ہے۔ اس کی پکڑ سے کوئی کسی کو چھڑا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے تصور سے انسان میں بیک وقت کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تصور رکھنے والے شخص کے دل میں تکبر کی بجائے عاجزی پیدا ہوتی ہے، وہ اپنوں کے سامنے عاجز اور متواضع ہوتا ہے اور اسلام کے دشمنوں کے سامنے شیر کی طرح دلیر اور پہاڑ کی مانند مضبوط ہوتا ہے۔ وہ رب ذوالجلال کے سوا کسی کو سپر پاور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا احساس رکھنے کی وجہ سے وہ اپنے رب کے حکم کے سامنے سرفکندہ رہتا ہے۔ جس مبلغ کا ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کبریاء نہیں تو وہ دین بالخصوص اس کی توحید کا پرچار کرتے ہوئے کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے المدثر یعنی دوسری وحی میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ اپنے رب کی کبریائی بیان کرو۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنے کا اوّلین مقصد یہ ہے کہ مبلغ دلائل کے ثابت کرے کہ ” اللہ“ کے سوا کوئی خالق، مالک، رازق اور معبود برحق نہیں ہے وہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے یہی وہ دعوت ہے جس کے لیے تمام انبیاء کرام مبعوث کیے گئے اور اسی کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ لوگوں کو اپنے رب کی کبریائی سے ڈرائیں۔ اللہ تعالیٰ کے کبریا ہونے کے عقیدے کی تقویت کے لیے اذان، اقامت، نماز اور اس کے بعد، عیدین کی نماز، عیدگاہ کی طرف آنے، جانے کے وقت، چڑھائی چڑھتے ہوئے، جانور ذبح کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جمرات کو کنکریاں مارتے ہوئے اور حجر اسود کا بوسہ لیتے ہوئے بھی اللہ اکبر کہنے کا حکم ہے تاکہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سپر پاور نہ سمجھے مسلمانوں نے جب سے اللہ تعالیٰ کو اپنا کبریا ماننا چھوڑ دیا اسی وقت سے ذلیل ہونا شروع ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس کا حکم ہے۔ (وَلَہُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ) (الجاثیہ : ٣٧) ” زمین اور آسمانوں میں بڑائی اسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدثر کے لقب سے پکارا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے مبعوث فرمایا۔ ٣۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے عزیز واقرباء اور لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا۔ ٤۔ ” اللہ“ بہت بڑا ہے اس کی کبریائی پر ایمان لاتے ہوئے اس کی بڑائی کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ہر قسم کی قوت اور کبریائی ” اللہ“ کے لیے ہے : ١۔ ” اللہ“ ہی رب ہے۔ ( لانعام : ١٠٢) ٢۔ ” اللہ“ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الرعد : ١٦) ٣۔ ” اللہ“ ہی ازلی اور ابدی ذات ہے۔ (الحدید : ٣) ٤۔ مشرق ومغرب ” اللہ“ کے لیے ہے۔ (البقرۃ: ١٤٢) ٥۔ ” اللہ“ غنی اور تعریف کیا گیا۔ ( فاطر : ٣٥) ٦۔ زمین و آسمان پر ” اللہ“ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : ١٨٩) ٧۔ زمین و آسمانوں میں صرف ” اللہ“ ہی کبریا ہے اور وہ ہر چیز پر غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔ (الجاثیہ : ٢٧) ٨۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ ” اللہ“ کی ملکیت ہے اور ا ” اللہ“ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : ١٨٩)