سورة النسآء - آیت 57

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور وہ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ، ہم انہیں باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کے لئے وہاں ستھری عورتیں ہوں گی ، اور ہم انہیں سایہ دار (ف ١) چھاؤں میں داخل کریں گے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفر اور حسد کرنے والوں کے مقابلہ میں صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کا صلہ اور انجام۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح کردار کے حامل ہوئے جو نہی وہ دنیا کے امتحانات سے نکل کر عالم عقبیٰ میں پہنچیں گے ان کے لیے ایسے باغات ہوں گے جن میں نہریں اور آبشاریں چلتی ہوں گی۔ صاحب ایمان اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں نہایت پاک و صاف، وفادار اور جانثار بیویاں ہوں گی۔ انہیں سر سبز وشاداب اور لہلہاتے ہوئے باغوں کے گھنے سایوں میں داخل کیا جائے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُُ أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں خیال پیدا ہوا چاہو تو اللہ کا فرمان پڑھ لو ” کوئی بھی نہیں جانتا کہ جنتیوں کے لیے کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک پوشیدہ رکھی گئی ہے۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ....] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو برس تک چلتا رہے تب بھی ختم نہ ہوگا اگر چاہو تو اللہ کا فرمان (وَظِلِّ مَّمْدُوْدٍ) پڑھو۔“ (عَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غَدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا وَلَوْ أَنَّّ امْرَاأۃً مِّنْ نِّسَاءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ إِلَی الْأَرْضِ لَأَضَاءَ تْ مَابَیْنَھُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَیْنَھُمَارِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا عَلٰی رَأْسِھَا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق‘ باب صفۃ الجنۃ والنار] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی ان کی طرف جھانک لے‘ تو مشرق ومغرب اور جو ان کے درمیان ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔“ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ) وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِّمَّا طَلَعََتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ اَوْتَغْرُبُ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے تب بھی اس کو عبور نہ کرسکے گا۔ اگر تم چاہو تو اللہ کا یہ فرمان پڑھ لو ” لمبے لمبے سائے“ اور یقیناً جنت میں تم میں سے کسی ایک شخص کی کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔“ مسائل ١۔ صاحب ایمان وکردار جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ ٢۔ جنتیوں کے لیے پاک بیویاں اور گھنے سائے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن ازواج جنت کا حسن و جمال : ١۔ پاک بیویاں۔ (البقرۃ: ٢٥) ٢۔ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والیاں۔ (الصافات : ٤٨، ٤٩) ٣۔ جنتیوں کی ہم عمر۔ (ص ٓ: ٥٢) ٤۔ یاقوت و مونگے کی طرح خوبصورت۔ (الرحمن : ٥٨) ٥۔ چھپائے ہوئے موتی۔ (الواقعہ : ٢٣) ٦۔ کنواری اور ہم عمرہوں گی۔ (الواقعہ : ٣٦، ٣٧)