سورة الحاقة - آیت 9

وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور فرعون اور اس سے پہلی امتوں اور الٹی بستیوں والیوں نے گناہ کئے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد اور قوم ثمود کے انجام کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں کا بدترین انجام۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے بعد کئی اقوام ایسی گزریں ہیں جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور قیامت کے دن کو جھٹلا یا اس جرم کی پاداش میں انہیں تہہ وبالا کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح ان کی پکڑ کی کہ کوئی بھی انہیں بچانے اور چھڑانے والا نہ تھا۔ ان کے بعد فرعون نے سرکشی اور بغاوت کی انتہا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو دریا میں ڈبکیاں دے دے کر ہلاک کیا فرعون بھی اپنے سے پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح دہائی دیتا رہا مگر اسے آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنادیا گیا۔ فرعون نے دعویٰ کیا کہ مجھ سے بڑھ کر کوئی رب نہیں ہے میں ہی سب دیوتاؤں سے بڑا دیوتا اور سب سے بڑا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی جھوٹی خدائی کے پرخچے اڑانے اور اس کی کذب بیانی کا پول کھولنے کے لیے اس کے گھر میں پرورش پانے والے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا خطاب : موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مجھے رب العالمین کی طرف سے رسول بنایا گیا ہے اور میں وہی بات کہوں گا جس کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ میں تمھارے پاس اپنے رب کی ربوبیت اور وحدت کے ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہوں۔ اس لیے تجھے اپنی خدائی چھوڑ کر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب ماننا چاہیے اس کے ساتھ میرا یہ مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا اگر تو اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فی الفور اپنا عصا زمین پر پھینکا جو بہت بڑا اژدھا بن کر لہرانے لگا۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اتنا بڑا اژدہا بن کر سامنے آیا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنے جبڑوں میں سب کو نگل لے گا۔ یہ دیکھتے ہی فرعون اور اس کے درباری اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے فریادیں کرنے لگے کہ ہمیں اس اژدھا سے بچائیں، تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا جو پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالا تو ان کے ہاتھ کے سامنے تمام روشنیاں ماند پڑگئیں۔ ہاتھ دیکھنے والے حیران اور ششد ررہ گئے کہ یہ تو سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے سامنے سورج کی روشنی ماند پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ (روح المعانی و جامع البیان) فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو گر قرار دیا اور ان کے مقابلے میں ملک بھر کے جادوگر لا کھڑے کیے جادوگر نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں شکست کھا گئے بلکہ وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لے آئے جو زمین و آسمانوں اور پوری کائنات کا رب ہے۔ اس کے با وجود فرعون اور اس کے ساتھی ایمان نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں ڈبکیاں دے دے کر مارا جس کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ اے اہل مکہ ہم نے تم سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس معزز رسول پیغام لے کر آیا اور اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ دار اور امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ لہٰذا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردے یعنی انہیں آزاد کردیا جائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے واضح دلائل پیش کر رہا ہوں۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دہمکی دی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بچانے کی ضمانت دی ہے اگر تم میری بات نہیں مانتے تو میرا راستہ چھوڑ دو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ایک مدت تک کشمکش جاری رہی بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے بددعا کی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ۔ ہاں یہ بات یاد رکھنا کہ فرعون اور اس کا لشکر تمہارا پیچھا کریں گے۔ لیکن سمندر کے پانی کو کھڑا چھوڑ کر پار ہوجانا کیونکہ ہم انہیں غرق کردیں گے۔ (الدخان : ١٧۔ ٢٤) اس کے بعد فرعون اور اس کے ساتھی غرق کر دئیے گئے۔ مسائل ١۔ فرعون اور کئی اقوام نے اپنے رسولوں اور قیامت کی تکذیب کی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی شدید گرفت کی اور انہیں ہلاک کردیا۔ تفسیر بالقرآن فرعون کے انجام کا ایک منظر : ١۔ فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو اللہ تعالیٰ نے قحط سالی میں مبتلا کیا۔ (الاعراف : ١٣٠) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو غر ق کردیا۔ ( البقرۃ: ٥٠) ( الانفال : ٥٤) (الدخان : ٢٩) (القصص : ٧٩) (المومن : ٤٥) (المومن : ٤٦) (آل عمران : ١١)