سورة النسآء - آیت 43

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مسلمانو ! جب تم نشہ میں ہو تو نماز کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ سمجھنے لگو کہ کیا کہتے ہو (ف ١) ورنہ بحالت جنابت ‘ جب تک غسل نہ کرلو ، البتہ اگر مسافرت میں ہو تو مضائقہ نہیں ۔ اور اگر تم بیمار یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی پاخانہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو ، پھر اپنے مونہوں اور ہاتھوں پر مسح کرلیا کرو ، بےشک خدا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کی تیاری کے لیے سچا ایمان اور پاکیزگی کی حالت میں نماز پڑھنا فرض ہے۔ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ قرآن مجید محض قانون کی کتاب نہیں۔ بلکہ قرآن مجید قانون اور ضابطے بیان کرنے کے بعد نصیحت کرتا ہے تاکہ ان پر عمل کرنا آسان ہو۔ سورۃ البقرۃ آیت ٢١٩ میں فقط اتنا احساس دلایا تھا کہ شراب میں فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اب حکم ہوتا ہے کہ شراب پی کر نماز کے قریب نہ جاؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تم کیا کہہ اور مانگ رہے ہو۔ ساتھ ہی طہارت اور وضو کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔ سکارٰی کا لفظ استعمال فرماکر بتلایا گیا ہے کہ بے ہوشی نشہ کی ہو یا نیند کی ایسی حالت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ جس کی وضاحت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں فرمائی : (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ وَھُوَ یُصَلِّیْ فَلْیَرْقُدْ حَتّٰی یَذْھَبَ عَنْہُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا صَلّٰی وَھُوَ نَاعِسٌ لَایَدْ رِیْ لَعَلَّہٗ یَسْتَغْفِرُ فَیَسُبُّ نَفْسَہٗ) [ رواہ البخاری : کتاب الوضوء، باب الوضوء من النوم ومن لم یرمن النعسۃ والنعستین أو الخفقۃ وُضواءً] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران اونگھ آئے تو وہ نیند دور ہونے تک آرام کرے کیونکہ جب تم میں سے کوئی نیند کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ خیر مانگنے کی بجائے اپنے لیے برائی مانگ رہا ہو۔“ سکارٰی سے مراد ہر قسم کا نشہ ہے چاہے شراب سے ہویا کسی اور چیز سے۔ دوسرے حکم میں جنبی اور محتلم کو جب تک غسل نہیں کرلیتا۔ اسے نماز کے قریب جانے سے منع کیا ہے۔ نماز ہی نہیں بلکہ مسجد میں داخل ہونے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یہاں ” عَابِرِیْ سَبِیْل“ کا اشارہ دے کر کوئی اور راستہ نہ ہونے کی صورت میں مسجد سے گزرنے کی اجازت عنایت فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ مریض، مسافر اور قضائے حاجت سے فارغ ہونے والا وضو کے لیے پانی نہ پائے تو اس کے لیے پاک مٹی سے تیمم کرنا ہی کافی ہوگا۔ ہاں جنبی یا محتلم غسل کے لیے پانی نہ پائے یا اس کے لیے پانی کا استعمال مضرہو تو اسے تیمم کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان حالتوں میں یہ رعایت عطا فرمائی ہے کیونکہ وہ درگزر اور معاف کرنے والا ہے۔ اس آیت میں عورتوں کو چھونے کے بعد غسل یا تیمم کرنے کا حکم دیا ہے چھونے سے مراد تمام مفسرین نے جماع لیا ہے۔ بعض اہل علم بیوی کو چھونے پر وضو ٹوٹ جانے کے قائل ہیں حالانکہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے عمل سے اس طرح تشریح فرمائی تاکہ امت کو کسی قسم کا وسوسہ باقی نہ رہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ یُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِہٖ ثُمَّ یُصَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأُ) [ رواہ النسائی : کتاب الطھارۃ، باب ترک الوضوء من القبلۃ ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں میں سے کسی کا بوسہ لیتے پھر وضو کیے بغیرنماز ادا کرتے۔“ (بشرطیکہ آدمی کی کیفیت نارمل رہے) غسل کا طریقہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنبی ہونے کی حالت میں پہلے جسم کا مخصوص حصہ یعنی شرمگاہ دھوتے اور اس کے بعد نماز جیسا وضو کرتے اور بعدازاں اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے اس کے بعد جسم کے دائیں حصہ سے غسل کا آغاز کرتے اور اس کی تکمیل کرتے۔“ [ رواہ البخاری : کتاب الغسل] حضرت اُمّ سلمہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ میں غسل واجب کرتے ہوئے اپنے سر کے بال کھول دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ [ رواہ مسلم : کتاب الحیض] (بالوں کا خلال ہی کافی ہے) تیمم کا طریقہ حضرت سعید بن عبدالرحمن اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے امیر المومنین حضرت عمر (رض) سے مسئلہ پوچھا کہ اگر میں جنبی ہوجاؤں اور مجھے پانی نہ ملے تو کیا کروں ؟ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا کہ آپ یاد فرمائیں جب ہم دونوں ایک سفر میں اس حالت سے دوچار ہوئے تو آپ نے اس حالت میں نماز ادانہ کی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے کے بعد نماز ادا کرلی۔ بعد ازاں میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ واقعہ عرض کیا۔ آپ نے فرمایا تجھے اتنا ہی کافی تھا کہ اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر مار کر اور ان میں پھونک مارتے ہوئے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرلیتا۔ [ رواہ البخاری : کتاب التیمم، باب المتیمم ھل ینفخ فیھما] بعض لوگ تیمم کے لیے دو مرتبہ مٹی پر ہاتھ مارنے اور کہنیوں تک مسح کرنے کے قائل ہیں لیکن مستند روایت میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ تکلیف کی حالت میں غسل کی بجائے تیمم کافی ہے (عَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ خَرَجْنَا فِیْ سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِّنَّاحَجَرٌ فَشَجَّہٗ فِیْ رَأْسِہٖ ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَہٗ فَقَالَ ھَلْ تَجِدُوْنَ لِیْ رُخْصَۃً فِی التَّیَمُّمِ فَقَالُوْا مَانَجِدُ لَکَ رُخْصَۃً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أُخْبِرَ بِذٰلِکَ فَقَالَ قَتَلُوْہُ قَتَلَھُمُ اللّٰہُ أَلَا سَأَلُوْا إِذْ لَمْ یَعْلَمُوْا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعَیِّ السُّوَالُ إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْہِ أَنْ یَتَیَمَّمَ وَیَعْصِرَ أَوْ یَعْصِبَ عَلٰی جُرْحِہٖ خِرْقَۃً ثُمَّ یَمْسَحَ عَلَیْھَا وَیَغْسِلَ سَاءِرَ جَسَدِہٖ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الطہارۃ، باب فی المجروح یتیمم] ” حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں ہم ایک سفر میں تھے ہمارے ایک ساتھی کو سر پر پتھر لگا جس سے وہ زخمی ہوگیا رات کو اسے احتلام ہوا صبح اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کیا میں تکلیف کی وجہ سے تیمم کرسکتا ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں کیونکہ تو پانی استعمال کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس نے غسل کیا جس سے اس کی تکلیف بڑھ گئی بالآخر وہ اسی وجہ سے فوت ہوگیا۔ جب ہم رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ آپ کے سامنے یہ واقعہ عرض کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسئلہ بتانے والوں نے اس بیچارے کو مار ڈالا۔ اللہ ان کو مار ڈالے جب انہیں مسئلہ کا علم نہیں تھا تو وہ کسی سے پوچھ لیتے۔ کیونکہ بے علمی کا حل کسی سے پوچھ لینا ہے۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ کر اس پر مسح کرتا اور باقی جسم کا غسل کرلیتا۔“ مسائل ١۔ نشہ اور پلیدی کی حالت میں نماز کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ ٢۔ پانی نہ ملنے یا تکلیف کے باعث پاک مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ ٣۔ چہرے اور ہاتھوں کا تیمم ایک ہی مرتبہ مٹی لے کر کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن وضو اور تیمم کے مسائل اور طریقہ : ١۔ وضو۔ (المائدۃ: ٦) ٢۔ تیمم۔ (النساء : ٤٣)