سورة الطلاق - آیت 4

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور تمہاری عورتوں میں سے وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہوگئی ہیں ۔ اگر تم شک میں ہو تو ان کی مدت تین مہینے ہے ۔ ایسے ہی ان کی جنہیں حیض نہیں آتا ۔ اور جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ پیٹ کا بچہ جنیں اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا رہے گا وہ اس کے کام میں آسانی کریگا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : عورتوں کے مسائل کا بیان جاری ہے۔ حیض سے نا امید اعورتوں کی عدت کا ذکر۔ ١۔ آسیہ یعنی وہ عورت جو عمررسیدہ ہونے کی و جہ سے حیض آنے سے ناامید ہوچکی ہو۔ طلاق ہونے کی صورت میں اس کی عدت تین قمری مہینے ہوگی۔ اس کے بارے میں ” اِنِ ا رْتَبْتُمْفَعِدَّتُہُنَّ ثَلَاثَۃُ اَشْہُرٍ“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا معنٰی ہے کہ اگر تمہیں شک ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہوگی۔ ان الفاظ سے کچھ لوگوں کو یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ شاید جس عورت کا حیض بند ہوچکا ہو اسے طلاق کے بعد تین مہینے کی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں، یہ استدلال ٹھیک نہیں ہے بلکہ اسے بھی عدت گزارنی چاہیے۔ ٢۔ جو عورت بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچی اور اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تو اس کی عدت بھی تین مہینے ہوگی۔ اس سے ثابت ہوا کہ بلوغت سے پہلے عورت سے نکاح ہوسکتا ہے۔ ٣۔ حاملہ عورت کو طلاق ہوجائے تو اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔ اسکی عدت میں صحابہ کرام [ کے درمیان دو نقطہ نظر پائے جاتے تھے۔ (أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ (رض) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبُو ہُرَیْرَۃَ (رض) جَالِسٌ عِنْدَہُ فَقَالَ أَفْتِنِی فِی امْرَأَۃٍ وَلَدَتْ بَعْدَ زَوْجِہَا بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ (رض) آخِرُ الأَجَلَیْنِ قُلْتُ أَنَا (وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِی یَعْنِی أَبَا سَلَمَۃَ فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ (رض) غُلاَمَہُ کُرَیْبًا إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ (رض) یَسْأَلُہَا فَقَالَتْ قُتِلَ زَوْجُ سُبَیْعَۃَ الأَسْلَمِیَّۃِ وَہْیَ حُبْلَی فَوَضَعَتْ بَعْدَ مَوْتِہِ بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَخُطِبَتْ فَأَنْکَحَہَا رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَکَانَ أَبُو السَّنَابِلِ فیمَنْ خَطَبَہَا) ( رواہ البخاری : کتاب التفسیر : باب (وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ، وَمَنْ یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَلْ لَہُ مِنْ أَمْرِہِ یُسْرًا) ” ابو سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے پاس ایک شخص آیا۔ اس وقت حضرت ابوہریرہ (رض) بھی ان کے پاس بیٹھے تھے وہ شخص کہنے لگا کہ ایک عورت کے ہاں اس کا خاوند فوت ہونے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوا؟ اس کی عدت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ وہ لمبی عدت (چار ماہ دس دن) پوری کرے۔ ابوسلمہ (رض) کہنے لگے پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا کہ ” حاملہ کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہنے لگے میں تو اپنے بھتیجے ابوسلمہ (رض) کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں۔ ابن عباس (رض) نے یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے اپنے غلام کریب کو ام المومنین ام سلمہ (رض) کے پاس بھیجا۔ ام سلمہ (رض) نے فرمایا سبیعہ اسلمیہ کا خاوند (سعد بن خولہ) اس وقت فوت ہوا جب وہ حاملہ تھی۔ خاوند کی وفات کے چالیس دن بعد اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اسے نکاح کے پیغام آنے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نکاح کی اجازت دے دی پیغام دینے والوں میں سے ابوسنابل بھی شامل تھا۔“ یہ ” اللہ“ کے احکام ہیں جن پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا اور اس کے گناہ معاف فرما کر اسے اجر عظیم سے سرفراز فرمائے گا۔ یادرہے کہ کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر قانون کے ذریعے پوری طرح گرفت کرنا ممکن نہیں ہوتا ان معاملات میں میاں بیوی کے آپس کے تعلقات بھی شامل ہیں اگر ان میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو صرف ایک ہی طریقہ ہے جس کے ذریعے معاملات کو آسانی کے ساتھ سدھارا جاسکتا ہے وہ طریقہ اللہ کا خوف اختیار کرنا ہے۔ اگر فریقین میں اللہ کا خوف پیدا ہوجائے تو معاملات کو سدھارنے میں آسانی پیدا ہوجائے گی۔ اس وجہ سے عائلی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے بار بار میاں بیوی کو ” اِتَّقُوْا اللّٰہ“ کا حکم دیا گیا ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے احکام پر عمل کروگے تو علیحدگی کی صورت میں اللہ تعالیٰ دونوں کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ مسائل ١۔ حیض سے مایوس عورتیں بھی طلاق کے بعد تین مہینے عدت پوری کریں گی۔ ٢۔ نابالغ عورت کو بھی طلاق کے بعد تین مہینے عدت پوری کرنا ہوگی۔ ٣۔ حاملہ عورت کی عدت بچہ جنم دینے کے ساتھ ہی پوری ہوجائے گی۔ تفسیر بالقرآن مطلقہ اور بیوہ عور توں کی عدت کے احکام : ١۔ مطلقہ کی عدّت تین حیض ہے۔ (البقرۃ : ٢٢٨) ٢۔ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ (البقرۃ : ٢٣٤) ٣۔ حیض نہ آنے کی صورت میں مطلقہ کی عدّت تین ماہ ہے۔ (الطلاق : ٤، ٥) ٤۔ عورت شوہر کے گھر عدّت گزارسکتی ہے۔ (الطلاق : ١) ٥۔ دورانِ عدّت نکاح جائز نہیں۔ (البقرۃ: ٢٣٥) ٦۔ مباشرت سے قبل طلاق ہونے کی صورت میں عدّت نہیں ہوگی۔ (الاحزا ب : ٤٩) ٧۔ طلاق والی حاملہ بچہ جنم دینے تک مکان اور نفقہ کی حق دار ہے۔ (الطلاق : ٦) ٨۔ عدّت والی حمل نہ چھپائے۔ (البقرۃ: ٢٢٨) ٩۔ عدّت میں منگنی کا اشارہ کرنے میں گناہ نہیں۔ (البقرۃ : ٢٣٥) تقویٰ کے فوائد : ١۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (الانبیاء : ٣١ تا ٣٣) ٢۔ متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود : ٤٩) ٣۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : ٤٥) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : ٣٥) ٥۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦۔ ٢٧) ٦۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : ٣٤) ٧۔ متقی کا کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : ٤ تا ٥) ٨۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو قیامت کے دن بے خوف ہوں گے۔ ( یونس : ٦١ تا ٦٤)