سورة التغابن - آیت 3

خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

آسمانوں اور زمین کو ٹھیک پیدا کیا اور تمہاری صورتیں کھنچیں سو (کیا) اچھی صورتیں بنائیں ۔ اور اسی کی طرف پھر جانا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اے لوگو! جس ” اللہ“ کی ہر چیز تعریف کرتی ہے اسی نے تمہیں بہترین شکل وصورت میں پیدا کیا ہے اور وہ تمہارے ہر عمل کو دیکھنے والا ہے اس لیے کہ اس سے تمہاری کوئی خفیہ اور ظاہر بات پوشیدہ نہیں جب اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے تو تمہیں ایسی ذات کے ساتھ کفر و شرک نہیں کرنا چاہیے۔ (ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰہُنَّ سَبْعَ سَمَوٰتٍ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) (البقرۃ: ٢٩) ” اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا پھر آسمان کا ارادہ فرمایا تو ان کو ٹھیک ٹھیک سات آسمان بنایا اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔“ (ہُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ) (آل عمران : ٦) ” جس طرح چاہتا ہے وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ نہایت غالب خوب حکمت والا ہے۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) وَرَفَعَ الْحَدِیْثَ أَنَّہُ قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بالرَّحِمِ مَلَکًا فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ نُطْفَۃٌ أَیْ رَبِّ عَلَقَۃٌ أَیْ رَبِّ مُضْغَۃٌ فَإِذَا أَرَاد اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَیْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثٰی شَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَیُکْتَبُ کَذَلِکَ فِی بَطْنِ أُمِّہٖ) (رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَکِتَابَۃِ۔۔) ” حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب! یہ گوشت کا لوتھڑا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا خوش بخت اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کتنی ہے اسی طرح اس کا نیک اور بد ہونا اس کی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔“ (وَ عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّ رَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُہَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ) (الانعام : ٥٩) ” اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی تر اور خشک دانہ نہیں مگر وہ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔“ ” تم چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے کرو۔ اللہ کے لیے برابر ہے وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے۔ کیا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا ہے ؟ حالانکہ وہ نہایت باریک بین اور پوری طرح خبردار ہے۔“ (الملک : ١٣، ١٤) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو برحق اور بامقصدپیدا کیا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ہی لوگوں کی صورتیں بنائیں اور وہ بہترین شکل وصورت بنانے والاہے۔ ٤۔ سب نے اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ وہ بھی جانتا ہے جو لوگ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جانتا ہے جو لوگ ظاہر کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ انسان کو پیدا کرنے والا اور وہی اس کی شکل وصورت بناتا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ: ٢٢) ٢۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : ٢٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : ٢) ٤۔ اللہ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : ١٨٩) ٥۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : ٤) ٦۔ اللہ ہی پیدا کرنے والاہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : ٥٤) ٧۔ لوگو اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : ١)