سورة الحشر - آیت 22

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے ۔ وہی بڑا مہربان رحم والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ نے قرآن مجید جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی ہے اس کی عظیم اور بے مثال صفات۔ ” اللہ“ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی ہر قسم کی پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جانتا ہے، سب کچھ جاننے کے باوجود اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ” الٰہ“ اللہ تعالیٰ کا متبادل نام بھی ہے اور عظیم صفت بھی۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے سب نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اس لیے صرف اسی کی بندگی کرو۔ وہی اپنی مخلوق کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرنے والا ہے۔ وہ ان چیزوں کو جانتا ہے جو اس کی مخلوق کے لیے غیب ہیں اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو کسی نہ کسی صورت میں اس کی مخلوق کے سامنے ہیں۔ غیب سے مراد مخلوق کے حوالے سے کسی چیز کا پوشیدہ ہونا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے غائب اور ظاہر، پوشیدہ اور اعلانیہ دونوں برابر ہیں کیونکہ اس کا فرمان ہے۔ (عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ سَوَآءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَہَرَ بِہٖ وَ مَنْ ہُوَ مُسْتَخْفٍ بالَّیْلِ وَ سَارِبٌ بالنَّہَارِ) (الرعد : ٩، ١٠) ” وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے بلند آواز سے کرے رات کی روشنی میں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں چلے پھرئے اس کے نزدیک سب برار ہیں۔“ رحمن فعلان کے وزن پر مبالغے یعنی سپر ڈگری (Super degree) اور رحیم فعیل کے وزن پر اسم صفت مشبہ کے صیغے ہیں۔ اہل علم کے نزدیک رحمن کی صفت سب کے لیے ہے اور اس کا رحیم ہونا صرف مومنوں کے لیے خاص ہے۔ الرحمن : لامتناہی اور رحمت مجسم کا ترجمان ہے اور لفظ ” الرحیم“ کائنات پر نازل ہونے والی مسلسل اور دائمی رحمت کی ترجمانی کرتا ہے۔ معنٰی یہ ہوا کہ وہ ” اللہ“ بے انتہا مہربان، ہمہ وقت اور ہر حال میں رحم فرمانے والا ہے۔ فرق یہ ہے کہ رحیم کا لفظ کسی مشفق شخصیت کے لیے استعمال جاسکتا ہے مگر کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ ” الرحمن“ کہنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحیمیّت کسی اضطرار اور مجبوری کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اس کی رحمانیت کا عین تقاضا ہے۔ اس صفت کا تذکرہ قرآن مجید میں مختلف الفاظ اور انداز میں پایا جاتا ہے۔ انسان جس قدر سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے لیکن جب اللہ کے حضور یہ کہتے ہوئے آب دیدہ ہوجائے کہ الٰہی! میرے جرائم اور خطاؤں کی آندھیوں نے میرے گلشن حیات کو برباد کردیا ہے۔ جس طرح تو ویران وادیوں، تپتے ہوئے صحراؤں اور اجڑے ہوئے باغوں کو اپنے کرم کی بارش سے سبز وشاداب بنا دیتا ہے اسی طرح مجھے بھی حیاتِ نو سے ہمکنار کر دے۔ بندۂ مومن کی عاجزی اور سرافگندگی کی وجہ سے رحمن و رحیم کی رحمت کے سمندر میں تلاطم برپا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے بندے کو معاف کردیتا ہے۔ الرحمن کی رحمت کی وسعتوں کا تذکرہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (عَنْ أَبِی ذَرٍّ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِی وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلاَّ مَنْ ہَدَیْتُہُ فَاسْتَہْدُونِی أَہْدِکُمْ یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ جَاءِعٌ إِلاَّ مَنْ أَطْعَمْتُہُ فَاسْتَطْعِمُونِی أُطْعِمْکُمْ یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ عَارٍ إِلاَّ مَنْ کَسَوْتُہُ فَاسْتَکْسُونِی أَکْسُکُمْ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ تُخْطِءُون باللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا فَاسْتَغْفِرُونِی أَغْفِرْ لَکُمْ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّی فَتَضُرُّونِی وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِی فَتَنْفَعُونِی یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِی مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ) (رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم) ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔ پس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے مانگومیں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہناؤں۔ پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو، میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو‘ میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو! تمہارے تمام اگلے پچھلے‘ جن و انس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب بدترین فاسق وفاجر انسان کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کچھ نقص واقع نہیں کرسکتا۔ میرے بندو! تمہارے اگلے پچھلے‘ جن وانس اگر سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر آدمی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی اس کی پوری مخلوق کو نہیں جانتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور مخلوق پر بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ تفسیربالقرآن اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں : ١۔ الٰہ ایک ہی ہے۔ (البقرۃ: ١٦٣) ٢۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارنے کی کوئی دلیل نہیں۔ (المومنون : ١١٧) ٣۔ اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نا پکارو اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں صرف وہی الٰہ ہے۔ (القصص : ٨٨) ٤۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے۔ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل : ٦٠) ٥۔ کون ہے جو لاچار کی فریادسنتا اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے، کیا اللہ کیساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ ( ا لنمل : ٦٢) ٦۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سوا رہنمائی کون کرتا ہے؟ کیا اللہ کیساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل : ٦٣) ٧۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنے اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا کون ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے؟ (النمل : ٦٤) ٨۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نا پکا رو وگرنہ عذاب میں مبتلا کیے جاؤگے۔ (الشعرآء : ٢١٣)