سورة الحشر - آیت 20

لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

دوزخی اور بہشتی برابر نہیں ۔ بہشتی مراد پانے والے ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : خود فراموشی کا شکار ہونے والے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جہنم میں جائیں گے، جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن مجید نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ: ١٨) سورۃ ص کی آیت ٢٨ میں فرمایا کہ کیا ہم ایماندار اور صالح اعمال کرنے والوں کو ان کے برابر کردیں جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں کیا ہم متقین کو برے لوگوں کے برابر کردیں گے ؟ ظاہر بات ہے کہ مومن اور فاسق، متقی اور بدکردار اچھے اور برے برابر نہیں ہوسکتے۔ جب عقائد اور کردار کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں تو پھر انجام کے لحاظ سے کس طرح برابر ہوں گے۔ ؟ اس لیے ارشاد فرمایا کہ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے، جہنمی ہمیشہ ہمیش کا نقصان پائیں گے اور جنتی ہمیشہ رہنے والے انعام پائیں گے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھا اور اپنے آپ کو خود فراموشی سے بچالیا۔ وہ نہ صرف اپنی زندگی کے مقصد کو پالے گا بلکہ آخرت کی دائمی زندگی میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَاعَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْا اِنْ شِءْتُمْ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ) (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا تصور پیدا ہوا۔ اگر پسند ہو تو اس آیت کی تلاوت کرو ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے۔“ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِیْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِیْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ) (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ) ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا (رض) سے وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم میں ڈالا جایا جائے گا ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔“ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے، تب بھی اس سایہ ختم نہیں ہوگا اور یقیناً تم میں سے کسی ایک شخص کی جنت میں کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔“ (رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ) (عَنْ سَمُرَۃَ ابْنِ جُنْدُبٍ (رض) اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰیحُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ) (رواہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار) ” حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کو ٹخنوں تک، بعض کو گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردنوں تک پہنچی ہوگی۔“ مسائل ١۔ جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے۔ ٢۔ جنتی کامیاب ہوں گے اور جہنمی ہمیشہ کے لیے ذلیل ہوں گے۔ تفسیربالقرآن جنتیوں اور جہنمیوں میں فرق : ١۔ قیامت کے دن جنتیوں کے چہروں پر ذلّت اور نحوست نہیں ہوگی اور وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : ٢٦) ٢۔ جنتیوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامہ : ٢٢) ٣۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کہیں گے۔ (الزمر : ٧٣) ٤۔ جنتیوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : ٧٣) ٥۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کریں گے۔ (الفرقان : ٧٥) ٦۔ جہنمیوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : ٢٧) ٧۔ جہنمیوں کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : ٧٢) ٨۔ جہنمیوں کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : ٤٠) ٩۔ خدا کے باغیوں پر پھٹکار ہوگی۔ (یونس : ٢٧) ١٠۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اوراُوندھے ہوں گے۔ (الغاشیہ : ٢) ١١۔ کفارکے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامہ : ٢٤) ١٢۔ مشرک، کافر اور منافق جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ: ٣٩، الزخرف : ٧٤، التوبہ : ٦٨)