سورة المجادلة - آیت 21

كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے ۔ بےشک اللہ زور آور زبردست ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حزب الشیطان کے بعد حزب اللہ کا بیان۔ کردار کے حوالے سے دنیا میں بنیادی طور پر دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ایک اللہ اور اس کے رسول کے نافرمانوں کی جماعت اور دوسری اللہ اور اس کے رسول کے تابعداروں کی جماعت ہے۔ یہاں نافرمانوں کو حزب الشیطان کہا گیا ہے اور تابعدار لوگوں کو حزب اللہ قرار دیا گیا ہے۔ (المجادلہ : ٢٢) دوسرے مقام پر پہلے گروہ کو اولیاء الشیطان اور دوسرے کو اولیاء اللہ کا اعزاز بخشا گیا ہے۔ (البقرۃ: ٢٥٧) دونوں گروہوں کے درمیان روز اوّل سے کشمکش جاری ہے کبھی حزب الشیطان کا شورو غوغا غالب آتا ہے اور کبھی حزب اللہ غالب آتے ہیں۔ یہاں تک حقائق اور دلائل کے اعتبار سے غلبہ پانے کی صورت ہے وہ ہمیشہ اللہ کا فرمان اور اس کے رسول غالب رہے ہیں کیونکہ کسی دور میں بھی کتاب اللہ اور انبیائے کرام کو شیطان کا گروہ دلائل کی بنیاد پر انہیں جھوٹا ثابت نہیں کرسکا۔ یہاں تک سیاسی غلبے کی بات ہے وہ اسی صورت میں حزب اللہ کو حاصل ہوگا جب وہ ایمان کے تقاضے پورے کریں گے کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ ( وَ لَا تَہِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ) (آل عمران : ١٣٩) ” تم سستی نہ کرو اور نہ غم کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایماندار ہو۔ ” حضرت ثوبان (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت سے ایک جماعت حق پر غالب رہے گی۔ ان کو رسوا کرنے والا ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکے گا یہاں تک کہ قیامت تک وہ اسی پر قائم رہیں گے۔“ (رواہ مسلم : باب قَوْلِہِ لَا تَزَالُ طَاءِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی ظَاہِرِینَ عَلَی الْحَقِّ لاَ یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ) (اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْ وَ لَا یُعْلٰیٰ) (ارواء الغلیل حدیث نمبر : ١٢٦٨) ” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے۔ ٢۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑاطاقتور اور ہر اعتبار سے غالب رہنے والاہے۔