سورة المجادلة - آیت 5

إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَقَدْ أَنزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۚ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت (ف 1) کرتے ہیں وہ خوار ہوئے تھے جیسے ان سے پہلے خوار ہوئے تھے اور ہم نے صاف آیتیں نازل کیں اور کافروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حدود اللہ کا خیال نہ رکھنے والوں کی دنیا میں سزا۔ جو لگ اللہ کی مقرر کردہ حدود کا خیال اور احترام نہیں کرتے حقیقت یہ ہے کہ وہ ” اللہ“ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ اسی طرح ہی ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر اپنے احکام نازل کردیئے ہیں جو ان کو نہیں مانتے انہیں ذلّت ناک عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو زندہ کرے گا اور پھر انہیں بتلائے گا کہ وہ کیا عمل کیا کرتے تھے۔ لوگ اپنے اعمال کو بھول جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کو شمار کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے۔ حدود اللہ کا خیال نہ رکھنے والے لوگوں کو نہ صرف آخرت میں اذّیت ناک عذاب ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی اسی طرح ذلیل کرے گا جس طرح ان سے پہلے مجرموں کو ذلیل کیا اور قیامت کے دن انہیں ان کے برے اعمال کی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ برے اعمال کرنے والے لوگ عام طور پر اپنے کردار کو بھول جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کسی معاملے میں نہیں بھولتا۔ کیونکہ وہ ہر چیز اس کے احاطہ علم میں رہتی ہے اور ہر وقت اپنی مخلوق کی نگرانی کرتا ہے۔ وہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی پوری پوری سزادے گا۔ پہلے ذلیل ہونے والوں میں سر فہرست یہودی ہیں جن میں حدود اللہ توڑنے کی وجہ سے کچھ کو دنیا میں بندر بنادیا گیا اور باقی پر دوسرے لوگوں کو مسلط کرکے ذلیل کیا گیا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ مَسْخٌ، وَخَسْفٌ، وَقَذْفٌ) (رواہ ابن ماجہ : کتاب الفتن، باب الاٰیاتِ، ھٰذا حدیث صحیح) ” عبد اللہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے قریب لوگوں کی شکلیں تبدیل ہونا، دھنسایا جانا اور تہمت لگانا عام ہوگا۔“ مسائل ١۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اسی طرح ہی ذلیل کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو ذلیل کیا گیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرامین کھول کھول کر بیان کیے ہیں جو لوگ ان کا انکار کرتے ہیں وہ انہیں آخرت میں ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا اور ان سے پورا پورا حساب لے گا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہے۔ تفسیربالقرآن دنیا اور آخرت میں ذلیل ہونے والے لوگ : ١۔ یہودی دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ (البقرۃ: ٨٥) ٢۔ اللہ کی مسجدوں سے روکنے والے دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے۔ (البقرۃ: ١١٤) ٣۔ کفار کو دنیا وآخرت میں شدید عذاب ہوگا۔ (الرعد : ٣٤، آل عمران : ٥٦) ٤۔ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن اور فسادی دنیا وآخرت میں عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ (المائدۃ: ٣٣) ٥۔ بچھڑے کے پجاری دنیا وآخرت میں ذلیل ہوئے۔ (الاعراف : ١٥٢) ٦۔ منافقین کو دنیا وآخرت میں سزا ہوگی۔ (التوبہ : ٧٤) ٧۔ فحاشی پھیلانے والوں کو دنیا وآخرت میں ذلت اٹھانی پڑے گی۔ (النور : ١٩) ٨۔ دین حق جھٹلانے والوں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب عظیم ہوگا۔ (الزمر : ٢٦)