سورة المجادلة - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(شروع) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ المجادلہ کا تعارف یہ سورۃ تین رکوع اور بائیس (٢٢) آیات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام اس کی پہلی آیت میں تُجَادِلُکَ کے لفظ سے لیا گیا ہے۔ یہ مدینہ منورہ میں اس وقت نازل ہوئی جب خولہ بنت ثعلبہ (رض) کو اس کے خاوند نے ماں کہہ دیا تھا۔ اس سورت میں سب سے پہلے زمانہ جاہلیت کی ایک رسم کا خاتمہ کیا گیا ہے جس میں پہلا سبق یہ ہے کہ دین میں جہالت اور رسم و رواج کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہوایہ کہ خولہ بنت ثعلبہ (رض) کو اس کے خاوند نے ماں کہہ دیا۔ دور جہالت میں جو شخص اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتا تھا تو وہ اس پر ہمیشہ کے لیے حرام قرار پاتی تھی اسلامی تاریخ میں یہ پہلا واقع تھا جس لیے حضرت خولہ (رض) بنی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے بار بار عرض کرتی ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے۔ اس کی تفصیل اس کی پہلی آیت میں دی گئی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی اصلاح کے لیے بتلایا گیا کہ تم خلوت میں ہو یا جلوت میں ہر حال میں یہ عقیدہ اور یقین رکھو کہ تم میں کوئی شخص اکیلا ہو یا کسی مجلس میں اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار، اختیار اور علم کے حوالے سے تمھارے ساتھ ہوتا ہے اس لیے تنہائی میں بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتے رہو کسی کو تکلیف پہنچانے کے لیے مجلس میں ایسا انداز اختیار نہ کرو جس سے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ ہی کسی مسلمان کو اذیت پہنچاو۔ منافقین کے ساتھ قلبی محبت رکھنے سے اجتناب کرو کیونکہ یہ لوگ اپنے ایمان سے جھوٹے ہیں اور اللہ کا نام لے کر جھوٹ بولتے ہیں اور اس کے راستے سے روکنے والے ہیں۔ حقیقت میں یہ شیطان کی جماعت ہے اور بالآخر نقصان پائیں گے ان کے مقابلے میں جو لوگ حقیقی ایمان رکھتے ہیں ان کے بارے میں تم کبھی نہیں پاؤ گے کہ وہ اپنے عزیز و اقربا کو اللہ اور اس کے رسول سے مقدم رکھنے والے ہوں یہ لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں اور یہ اللہ کی جماعت ہیں اور یہی دنیا میں غالب آئیں گے اور ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔