سورة الحديد - آیت 21

سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اپنے رب کی معانی اور جنت کی طرف دوڑو ۔ اس جنت کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کی برابر ہے ۔ ان کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ۔ جسے چاہے دے اور اللہ کا فضل بڑا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : دنیا کے مال پر فخر کرنے اور اس کی طلب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی بجائے اپنے رب کی بخشش اور جنت میں آگے بڑھنے کی کوشش کیجیے۔ یہ بات سورۃ آل عمران کی آیت ١٣٣ میں بیان ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے اور جنت کی طرف سبقت لے جانے کا حکم دیا ہے۔ جس قوم اور معاشرے میں نیکی اور اپنے مقصد کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ ختم ہوجائے بالآخر وہ قوم مردگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اپنی منزل کے حصول کے لیے نئے جذبوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کی جنت کا حصول ہے اس لیے قرآن مجید نے ایک سے زائد مقامات پر ترغیب دی ہے کہ اس کے لیے آگے بڑھو اور بڑھتے ہی چلے جاؤ۔ اس فرمان کی روشنی میں صحابہ کرام (رض) ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کے لیے حضرت عمر فاروق (رض) یہ سوچ کر مسجد نبوی سے اٹھے کہ اس مرتبہ ابوبکر صدیق (رض) سے صدقہ کرنے میں آگے بڑھ جاؤں گا۔ جب عمر فاروق اور ابوبکر صدیق (رض) اپنا اپنا حصہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرفاروق (رض) سے پوچھا کہ کتنا مال جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کررہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کل مال کا آدھا حصہ پیش کررہا ہوں۔ ابوبکر صدیق (رض) سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ پورے کا پورا مال آپ کی خدمت میں پیش کردیا گیا ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں ابوبکر صدیق (رض) سے سبقت نہیں لے جاسکتا۔ (رواہ الترمذی : باب مناقب ابی بکر وعمر (رض)، قال البانی حسن) (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ سَنَۃٍ وَاقْرَأُوْا إِنْ شِءْتُمْ (وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ) (رواہ البخاری : باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ گھوڑے پر سوار شخص اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ( اور سائے ہیں لمبے لمبے)۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ (رض) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) (رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ .....) ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے پاس وہی جائے گا۔ کوئی اور انہیں نہیں دیکھ سکے گا۔“ قرآن مجید کا مقصد جنت کا طول و عرض بتانا نہیں بلکہ اس کی وسعت و کشادگی کا تصور دینا ہے۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ التَّوَّابِینَ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَہِّرِینَ فُتِحَتْ لَہُ ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْخُلُ مِنْ أَیِّہَا شَاءَ) (رواہ الترمذی : باب فیما یقال بعد الوضوء، قال الالبانی ھذاحدیث صحیح) ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں میں اور پاک صاف رہنے والوں میں شامل فرما۔ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہاں سے چاہے داخل ہوجائے۔“ مسائل ١۔ لوگو! اپنے رب کی بخشش اور جنت کے لیے آگے بڑھو! ٢۔ جنت کی چوڑائی زمین و آسمانوں سے کشادہ ہے۔ ٣۔ جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔ ٤۔ جنت کا حصول اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے فضل فرماتا ہے وہ بڑے فضل والاہے۔ تفسیر بالقرآن جنت اور بخشش کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہیے : ١۔ اللہ کی مغفرت اور جنت کی کوشش کرو۔ (الحدید : ٢١) ٢۔ نیکی کے حصول میں جلدی کرو۔ (البقرۃ: ١٤٨) ٣۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے اعلیٰ ہوں گے۔ (فاطر : ٣٢) (الواقعہ : ١٠، ١١)