سورة الرحمن - آیت 48

ذَوَاتَا أَفْنَانٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے باغات کی بہاریں اور ان کے پھل۔ ” اللہ“ کا خوف رکھنے والے جنتی کو جنت میں دوباغ دیئے جائیں گے جن کے درخت طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ان باغات میں دو دوچشمے ہوں گے اور ان کے پھل بھی دو قسم کے ہوں گے۔ جنتی حضرات ایسے قالینوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے جن کے استر اطلس کے بنے ہوئے ہوں گے اور جنت کے پھل ان کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ اے جن اور انسانو! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس ارشاد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جن اور انسان آخرت کی فکر پیدا کرلیں اور اپنے رب سے ڈر کرزندگی بسر کریں تو انہیں ہر صورت جنت کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا۔ اللہ کے خوف کا پہلا تقاضا ہے کہ انسان اپنے رب کے ساتھ شرک نہ کرے اور ہر قسم کی نافرمانی سے بچتا رہے۔ جس نے اپنے رب کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش نہ کی حقیقت میں اس نے جنت اور اس کی نعمتوں کی تکذیب کی۔ اس لیے فرمایا کہ اے جن اور انسانو! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کروگے۔ (وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کُلُّ اُمَّتِیْ ےَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ اَبٰی قِےْلَ وَمَنْ اَبٰی قَالَ مَنْ اَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَد اَبٰی) (رواہ البخاری : باب الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوہر یرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری تمام کی تمام امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے جنت میں جانے سے انکار کیا صحابہ (رض) نے پوچھا انکار کرنے والا کون ہوگا؟ فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔“ مسائل ١۔ جنت کے باغ پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ٢۔ جنت کے باغات میں چشمے بہہ رہے ہوں گے۔ ٣۔ جنت کے باغوں میں تمام پھل دو دوقسم پر مشتمل ہوں گے۔ ٤۔ انسانوں اور جنت کو اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ ٥۔ جنتی جنت کے قالینوں پرتشریف فرما اور تکیوں پر ٹیک لگائے ہوں گے۔ ٦۔ جنت کے باغات کے پھل جنتی کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت میں جنتی کا مقام اور جنت کی ایک جھلک : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بے خار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٠) ٤۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ: ٣١) ٥۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : ٣٤) ٦۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : ١٥) ٧۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : ١٧) ٨۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : ٢٣) ٩۔ جنت میں جنتی کو سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : ٣٣) ١٠۔ جنت میں تمام پھل دو، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : ٥٢) ١١۔ جنتی کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : ٢١) ١٢۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمن : ٧٦)