سورة النسآء - آیت 3

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں میں عدل نہ کرسکو گے تو سوائے ان کے عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں دو دو ، تین تین ، چار چار نکاح میں لاؤ اور اگر خوف ہو کہ برابری نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا جو تمہارے ہاتھوں کا مال ہوا (یعنی باندی) اس دستور سے قریب ہے کہ تم ایک طرف جھک پڑو (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : یتامیٰ میں بھی یتیم بچیوں کا خیال رکھنے کا حکم ہے کیونکہ یتیم لڑکا تو کسی نہ کسی طریقے سے گزارہ کرلیتا ہے لیکن یتیم بچی جائے تو کدھر جائے۔ اگر بالغ ہوجائے تو اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس سے مشروط نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے یتیموں کے بعض سر پرست محض اس کے مال پر قبضہ کرنے کے لیے یتیم لڑکی کے بالغ ہونے پر اس کا نکاح اپنے یا اپنے بیٹے کے ساتھ کردیتے۔ ایسا ہی واقعہ آپ کی بعثت کے بعد پیش آیا۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ رَجُلًا کَانَتْ لَہٗ یَتِیْمَۃٌ فَنَکَحَھَا وَکَانَ لَھَا عَذْقٌ وَکَانَ یُمْسِکُھَا عَلَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ لَّھَا مِنْ نَّفْسِہٖ شَیْءٌ فَنَزَلَتْ (وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتَامٰی۔۔) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب وإن خفتم ألا تقسطوا] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ایک آدمی کی پرورش میں ایک یتیم لڑکی تھی جس کی ملکیت میں کھجور کا ایک باغ تھا اسی باغ کی وجہ سے وہ اس کی پرورش کرتا رہا۔ حالانکہ اس کو اس سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی۔“ یعنی اگر تم یتیم بچیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکتے تو پھر دوسری عورتوں کے ساتھ اپنی پسند کے مطابق دو دو، تین تین‘ چار چار نکاح کرسکتے ہو۔ اس میں بھی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم ان کے درمیان عدل نہیں کر پاؤ گے تو پھر ایک سے ہی نکاح کرو۔ البتہ تم لونڈیاں رکھ سکتے ہو۔ عدل و انصاف کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے کہ کہیں تم ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ کَانَِ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقْسِمُ فَیَعْدِلُ وَیَقُوْلُ اللّٰھُمَّ ھٰذَا قَسْمِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی القسم بین النساء ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باری تقسیم کرنے میں عدل کرتے اور یہ فرماتے تھے اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جس کا مجھے اختیار ہے اور مجھے ملامت نہ کر اس میں جس کا تو مالک ہے اور کیونکہ اس پر مجھے اختیار نہیں (یعنی دل)۔“ چار بیویوں کا مسئلہ غیر مسلموں نے قرآن مجید کے اس فرمان پر بڑے اعتراضات اور سوالات اٹھائے ہیں وہ اس آیت کی خود ساختہ تشریح کرتے ہوئے کہتے اور لکھتے ہیں کہ قرآن نے مسلمانوں کو چار بیویاں کرنے کا حکم دیا ہے حالانکہ قرآن مجید نے چار بیویاں کرنے کا حکم نہیں دیا۔ چار بیویاں کرنے کی صرف رخصت عنایت فرمائی ہے۔ اس میں بھی ہر قسم کا عدل و انصاف قائم رکھنا ضروری ہے ورنہ اسلامی حکومت ایسے شخص کا نوٹس لے سکتی ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِذَا کَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ یَعْدِلْ بَیْنَھُمَا جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَشِقُّہٗ سَاقِطٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب النکاح، باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی کے پاس دوبیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل نہ کرے۔ وہ قیامت کے دن فالج زدہ جسم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔“ قرآن مجید نے جن وجوہات کی بنیاد پر تعدّدِ ازواج کی اجازت دی ہے۔ یہ وجوہات اور ضرورت ہر دور میں رہی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گی۔ مردوں کو یہ اجازت عورتوں کی کفالت اور تحفظ کے لیے دی گئی ہے کیونکہ اس کے بغیر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا ناممکن ہے۔ جن قوموں نے صرف ایک بیوی رکھنے کا قانون بنا کر داشتائیں رکھنے کی اجازت دی ہے۔ ان میں بے حیائی، معصوم بچوں کا قتل، اسقاط حمل، جسمانی اور روحانی بیماریوں کی بہتات کی وجہ سے ان کا معاشرہ پرلے درجے کی آوارگی کا شکار ہوچکا ہے۔ اسلام کے اصولوں کے مطابق اگر بیویوں کے درمیان ہرقسم کا عدل و انصاف کیا جائے تو عورتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا حل بڑی عمدگی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے اس کے بغیر اس کا کوئی حل نہیں ہو سکتا۔ ١۔ افغانستان پر دس سال تک روس کا جنگ مسلط کرنا بعد ازاں افغانستان اور عراق پر امریکی حملہ جس میں دونوں مسلمان ملکوں کے کم از کم پندرہ سے بیس لاکھ مرد شہید ہوئے جس کی وجہ سے ان ملکوں میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں چار گنا زیادہ ہوچکی ہیں۔ جنگی اور ہنگامی حالات کی بناء پر مرد کو چار بیویاں رکھنے کی رخصت دی گئی۔ ٢۔ شرح پیدائش کے اعتبار سے عورتوں کی کثرت خاص کر قرب قیامت عورتوں کا زیادہ ہونا ہے۔ ٣۔ ٹریفک حادثات میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کا زیادہ ہلاک ہونا کیونکہ عورتوں کی نسبت مرد زیادہ سفر کرتے ہیں۔ ٤۔ جنسی طاقت کی بنیاد پر مرد کو اجازت دینا تاکہ بے شرمی رواج پانے کی بجائے شرم و حیا کا تحفظ ہو سکے۔ ٥۔ پہلی بیوی کے بانجھ ہونے کی صورت میں یا نرینہ اولاد کی خواہش میں دوسری شادی کی ضرورت ہونا۔ ٦۔ یاد رکھیے نکاح کا مقصد شہوت زنی نہیں تفصیل کے لیے النساء آیت ٩٤ کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اُمّہات المؤمنین رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اطہر پر وہی شخص اعتراض کرنے کی جسارت کرسکتا ہے جو منکر نبوت اور جاہل ہو کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ اللہ کا حکم آنے سے پہلے جہاں کہیں آپ نے کسی مسئلہ میں استدلال فرمایا اگر وہ شریعت کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً اس کی تردید یا تصحیح کردی گئی۔ ایک منصف مزاج شخص کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ مذکورہ بالا اصول پر غور کرے اور آپ کی حیات مبارکہ کا وہ دور دیکھے۔ جب آپ پچیس سال کے جوان رعنا تھے‘ صحت اور حسن و جمال کے حوالے سے پوری دنیا میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آپ کو روکنے اور سمجھانے والے والدین بھی سر پر موجود نہیں تھے۔ آپ کی شرم و حیا، دیانت و امانت عرب میں ضرب المثل تھی۔ شادی کا وقت آیا تو آپ نے اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک ایسی عورت کے ساتھ نکاح کیا جس کے دو خاوند پہلے فوت ہوچکے تھے۔ پھر اسی ایک کے ساتھ پچیس سال کا عرصہ گزارا تاآنکہ حضرت خدیجہ (رض) دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ ان کے بعد حضرت سودہ (رض) سے نکاح کیا جو معمّر عورت تھی۔ جب وہ آپ کے گھر آئیں تو اس وقت آپ کی عمر مبارک ٥٤ سال ہوچکی تھی۔ حضرت سودہ (رض) کے بعد حضرت عائشہ سے ٢ ؁ ھجری میں نکاح کیا۔ آپ نے پچپن سال میں حضرت حفصہ (رض) کے ساتھ اور اسی سال کے آخر میں حضرت زینب (رض) کے ساتھ، ٤ ؁ ہجری میں حضرت اُمّ سلمہ (رض) آپ کے نکاح میں آئیں، ٥ ؁ہجری حضرت زینب بنت جحش (رض) کے ساتھ ٦ ؁ ہجری میں، حضرت جویریہ (رض) ٧ ؁ ہجری میں، حضرت ام حبیبہ (رض) اور ٧ ؁ھجری کے آخر میں حضرت صفیہ (رض) اور حضرت میمونہ (رض) کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ مزید وضاحت کے لیے سیرت رحمۃ اللعالمین کا مطالعہ فرمائیں۔ مسائل ١۔ بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔ ٢۔ انصاف نہ کرسکے تو صرف ایک بیوی رکھنی چاہیے۔