سورة الرحمن - آیت 29

يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے ۔ اسی سے مانگتے ہیں ۔ ہر روز وہ ایک نئی (ف 3) شان میں ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی ذات اس وقت بھی تھی جب کچھ نہیں تھا اور اس وقت بھی ہوگی جب کچھ نہیں ہوگا ہر چیز اسی کی محتاج ہے۔ اس لیے پوری مخلوق اسی سے مانگتی ہے اور سب کو اسی سے مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے لوگو! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے، وہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لے آئے، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ (فاطر : ١٥ تا ١٧) اللہ ہی خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہے ہر کوئی اسی سے مانگتا ہے۔ ہر دن ہر آن رب ذوالجلال کی نئی شان ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بے شمار جن اور انسان ایسے ہیں جو اس کے حکم کے مطابق اس سے مانگنے کے لیے تیار نہیں وہ ادھر ادھر کے واسطوں اور مختلف قسم کے وسیلوں کو درمیان میں لاتے ہیں حالانکہ اس کا حکم ہے کہ مجھ سے بلاواسطہ مانگا جائے۔ ” تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھے ہی پکارو میں ہی تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ تکبر کرتے ہوئے اور میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں وہ ضرور ذلیل وخوار ہو کر جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔“ (المومن : ٦٠) اس کا فرمان ہے کہ صرف مجھے ہی پکارا جائے اور اطاعت بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے یہ بہت بڑا انعام ہے کہ وہ انسان کو ہر کسی کے سامنے جھکنے اور ان سے مانگنے کا حکم دینے کی بجائے صرف اپنے سامنے جھکنے اور مانگنے کا حکم دیتا ہے جو جن اور انسان اس کے حکم کے مطابق اس سے نہیں مانگتے ان کے لیے اس کا ارشاد ہے کہ اے جنو اور انسانو! تم اپنے رب کی شان اور فرمان کو کس طرح جھٹلاؤ گے۔ اس کا فرمان ہے کہ ہر دن اس کی نئی شان ہے یعنی وہ ہر آن اپنی مخلوق بالخصوص جنوں اور انسانوں پر اپنی رحمت اور کرم نوازیوں میں اضافہ کیے جاتا ہے۔ اس کی رحمت کی شان کا تذکرہ کرتے ہوئے سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ) (رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ والاداب، باب تحریم الظلم) ” میرے بندو! تمہارے اگلے پچھلے اگر جن وانس سب مل کر کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔“ مسائل ١۔ زمین و آسمانوں میں بسنے والا ہر جاندار اپنے رب سے مانگتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مجھ سے ہی مانگا جائے۔ ٣۔ مشرک اور کافر کے سوا ہر کوئی ایک رب سے مانگتا ہے۔ ٤۔ بے شمار جن اور انسان اللہ کے حکم اور اس کی نعمتوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ تفسیربالقرآن تمام انبیاء بغیر کسی واسطے اور کسی کے وسیلے کے بغیر ایک ” رب“ سے ہی مانگا کرتے تھے : ١۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں فرمائے گا تو یقیناً ہم نقصان اٹھائیں گے۔ (الاعراف : ٢٣) ٢۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک کافر نہیں بچنا چاہیے۔ (نوح : ٢٦) ٣۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں اپنی بے قراری اور غم کی شکایت صرف ” اللہ“ کے حضور پیش کرتا ہوں۔ (یوسف : ٨٦) ٤۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میں بیمار ہوگیا ہوں اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : ٨٣) ٥۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے اور میں ہی قصور وار ہوں۔ (الانبیاء : ٨٧) ٦۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہترین وارث ہے۔ (الانبیاء : ٨٩) ٧۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میں بیمار ہوگیا ہوں تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : ٨٣) ٨۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا اے میرے رب! میرا علم زیادہ کر دے۔ (طٰہٰ: ١١٤) ٩۔ اے اللہ! فساد کرنے والی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔ (حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا) (العنکبوت : ٣٠) ١٠۔ اے ہمارے رب! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے (حضرت شعیب کی دعا) (الاعراف : ٨٩) ١١۔ اے ہمارے پروردگار! ان کے اموال کو ختم کردے۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا)۔ (یونس : ٨٨)