سورة القمر - آیت 46

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بلکہ ان کے وعدہ کا وقت وہ (قیامت کی) گھڑی ہے اور وہ بڑی بلا اور بڑی کڑوی ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو دنیا میں عذاب دینے کے ساتھ آخرت میں بھی عذاب دیا جائے گا۔ اہل مکہ کو جو انتباہ کیا گیا ہے وہ حرف بہ حرف پورا ہوا اور ان کی جمعیت اور قوت کو تہس نہس کردیا گیا۔ اس کے باوجود فرمایا کہ انہیں اصل سزا قیامت کے دن دی جائے گی جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ دن بذات خود بڑا سخت اور خوفناک ہوگا۔ یقیناً مجرم کھلی گمراہی اور پاگل پن میں مبتلا ہیں۔ اس دن ان کو ان کے چہروں کے بل جہنم کی آگ میں دھکیلا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اب جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھو۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اس لیے مقرر کیا ہے تاکہ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کی پوری پوری جزا دے۔ مجرموں کے لیے اس لیے جہنم تیارکی گئی ہے تاکہ انہیں ٹھیک ٹھیک سزادی جائے۔ دنیا میں ایک قاتل اور ظالم کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا پھانسی ہو سکتی ہے۔ پھانسی لگنے والا شخص ایک ہی مقتول کے بدلے میں پھانسی کی سزا پاتا ہے۔ اگر وہ کئی مقتولوں کا قاتل ہے تو اس کی سزا اسے نہیں ملتی۔ قیامت کے دن مجرم کوٹھیک ٹھیک سزادینے کے لیے دو کام کیے جائیں گے۔ ایک سزا یہ ہوگی کہ کافر اور مشرک کو جہنم میں موت نہیں آئے گی اور دوسرا کام یہ کیا جائے گا کہ اس کے جسم کی کھال باربار بدلی جائے گی۔ تاکہ وہ اپنے جرائم کی ٹھیک ٹھیک سزا پائے۔ اس سزا کے ساتھ فرشتے جھڑکیاں دیتے ہوئے کہیں گے کہ اب اپنی نافرمانیوں کا مزہ چکھو۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَارًا کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًاغَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیْزًا حَکِیْمًا) (النساء : ٥٦) ” جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا یقیناً ہم انہیں آگ میں ڈالیں گے۔ جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم ان کی جگہ دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں یقیناً اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا ہے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) (رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتی کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔“ مسائل ١۔ قیامت کا دن بڑا سخت اور خوفناک ہوگا۔ ٢۔ مجرم اپنے جرائم میں اندھا ہوجاتا ہے۔ ٣۔ قیامت کے دن مجرموں کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔ ٤۔ قیامت کے دن مجرموں کو ان کے چہروں کے بل جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں گھسیٹا جائے گا۔ ٥۔ جہنم کے فرشتے جہنمیوں کو جھڑکیاں دیتے ہوئے کہیں گے کہ اب ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں مختلف قسم کی سزائیں : ١۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔ (التوبہ : ٣٥) ٢۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧) ٣۔ جہنم میں جہنمی کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : ٤ ٥ تا ٥٥) ٤۔ ان کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ (الانعام : ٧٠) ٥۔ کفار کے لئے اُبلتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا۔ (یونس : ٤) ٦۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکہف : ٢٩)