سورة آل عمران - آیت 191

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ان کے لئے جو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے ہوئے خدا کو یاد کرتے ہیں ، اور آسمان وزمین کی پیدائش میں دھیان کرتے ہیں کہ اے رب تونے یہ عبث پیدا نہیں کیا ، تو پاک ہے سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔ (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے بندے ہر حال میں اس کے شکر گزار‘ اس کی عبادت میں محو اور اس کے ذکر و فکر میں مشغول رہتے ہیں، یہی دانشمندی ہے۔ اللہ تعالیٰ خالق کل اور حاکم مطلق ہے۔ اگر وہ چاہتا تو صرف حکم دیتا کہ میری ذات اور بات مانو لیکن اس نے اپنی ذات کو حاکم کی حیثیت سے ہی نہیں بلکہ خالق و مالک اور رحمن و رحیم کے طور پر تسلیم کرنے کی دعوت دی ہے اس لیے وہ انسان کو اس کی تخلیق، اپنی قدرتوں اور کائنات کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ عقل و فکر اور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس پر ایمان لایا جائے۔ ایسا ایمان ہی آدمی کی فکر میں تبدیلی اور اس کے کردار میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ اسی بنا پر قرآن مجید بار بار آدمی کی توجہ کائنات کی تخلیق اور اللہ کی قدرت وسطوت کی طرف دلاتا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن انسان کو اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے کیونکہ یہی لوگ غور و فکر اور دلائل کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی بات اور ذات کو پہچانتے اور یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کے تین طریقے ہیں کیونکہ آدمی تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہی ہوتا ہے۔ کھڑا، بیٹھا اور لیٹا ہوا۔ چلنے پھرنے کی حالت کھڑے ہونے میں شمار ہوتی ہے۔ ذکر کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا ادراک واعتراف کرتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق اس کی عبادت کی جائے۔ جب اللہ تعالیٰ کی ذات کا شعور نصیب ہوجائے تو پھر انسان ان تینوں حالتوں میں جس حالت میں بھی ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتا ہے۔ نماز افضل ترین ذکر ہونے کی بنا پر فرض ہے۔ اس کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں : (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ (رض) قَالَ کَانَتْ بِیْ بَوَاسِیْرُ فَسَأَلْْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنِ الصَّلَاۃِ فَقاَلَ : صَلِّ قَاءِمًا فإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَقاَعِدًا فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فعَلٰی جَنْبٍ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب إذا لم یطق قاعدا صلی علی جنب] ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہمجھے بواسیر کی تکلیف تھی تو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : کھڑے ہو کر نماز پڑ ھو کھڑے ہو کر پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر بیٹھ کر پڑھ اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو لیٹ کر۔“ شعور کی دولت اور اللہ تعالیٰ کی محبت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اس کی تخلیقات اور زمین و آسمان کی بناوٹ وسجاوٹ پر فکر و تدبر اختیار کر ے۔ پھر انسان اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کے جسم کا ایک ایک رونگٹا اور دل کا ایک ایک گوشہ پکار اٹھتا ہے کہ اے ہمارے رب! تو نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے۔ وہ بے مقصد پیدا نہیں فرمایا۔ اس لیے ہر چیز تیری حکمت اور حکم کے مطابق اپنی تخلیق کے مقصد پر لگی ہوئی ہے۔ اے ہمارے رب! تو ہر عیب سے پاک ہے۔ ہم نے نافرمانیاں کر کے اپنے آپ کو ناپاک بنایا اور اپنی زندگی کے مقصد کو کھویا اور ضائع کرلیا ہے۔ ہماری تیرے حضور التجا ہے کہ ہمیں معاف فرما کر آگ کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ (آمین) غور وفکر کے نتائج اور سائنسدانوں کے مشاہدات ماہر طبقات الأرض جے‘ ڈبلیوڈاسن : ” حق تو یہ ہے کہ عبادت کا فلسفیانہ تصور پیدا کرنے کے لیے اصول وقوانین پر ایمان لانا لابدی ہے۔ اگر کائنات بے ترتیب اتفاقات کا نتیجہ ہوتی یا محض کسی ضرورت یاحاجت کی پیداوار ہوتی تو سوچ سمجھ کر عبادت کرنے کی ضرورت کبھی پیش نہ آتی۔ جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کائنات ایک حکیم ودانا کی تدبیر کا مظہر ہے وہی ذات بے ہمتا اسے کمال حکمت ودانائی سے چلا رہی ہے اسی حالت میں ہمارے دل میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ ہم اس بے مثل ذات کو ہر چیز کا آقا ومولیٰ تصور کرکے، اس کی بے پناہ دانائی اور محبت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔“ جہاں تک میرے شعبے کا تعلق ہے ہم لوگ ہر چیز کو وسیع پیمانے پر دیکھنے کے عادی ہیں۔ وقت کا شمار تاریخ ارضی کے پچاس کھرب سال اکائیوں میں کرتے ہیں اور فضا کا اندازہ زمین کے محیط سے اور عمل کائنات کا اندازہ عالمی گردش سے کرتے ہیں۔ ان تمام اندازوں کی وسعت سے ناگزیر طور پر عقیدہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو انسان مذہب کا دلدادہ نہ ہو وہ بھی ان حیرت پرور اشیاء کو دیکھ کر اپنے دل میں خوف وہیبت محسوس کرتا ہے اور اسے بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ : ” آسمان خدا کی عظمت کے شاہد ہیں اور یہ کائنات اس کے کرشمۂ تخلیق کا ثبوت ہے۔“ مرلن گرانٹ سمتھ (ماہر ریاضیات وفلکیات): خدا کے بارے میں انسان کے دل میں جو سوال پیدا ہوتا ہے اس کا خالق اور مخلوق دونوں کے سامنے جواب دہی سے بڑاقریبی تعلق ہے اس لیے جواب کا فیصلہ کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے اگر خدا ہے تو وہ صرف ہمارا پیدا کرنے والا ہی نہیں ہے بلکہ ہمارا مالک وآقا بھی ہے اس لیے ہمیں اس کے دونوں قسم کے پسندیدہ افعال واعمال کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہئیں، یعنی ان افعال کے بارے میں بھی جن کا تعلق براہ راست خدا سے ہے اور ان کے بارے میں بھی جن کا تعلق ہمارے ہم جنس انسانوں سے ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہت چوٹی کے اہل علم نے حال ہی میں اس بات کا بالواسطہ یا بلا واسطہ اعتراف کیا ہے کہ خدا ہے۔ میں ان میں چند اقوال یہاں پیش کرنے کی اجازت چاہتاہوں۔ مثلًا سرجیمر جینز کہتے ہیں : ” ہماری کائنات ایک بڑی مشین کے مقابلے میں ایک عظیم خیال سے زیادہ مشابہ ہے یہ بات ایک سائنسی حقیقت کی طرح نہیں بلکہ گمان کے طور پر کہتاہوں کہ یہ کائنات کسی بڑے آفاقی ذہن کی پیداوارہے جو ہمارے تمام ذہنوں سے مطابقت رکھتا ہے اور سائنس کے تصوّرات بھی اب اسی طرف اقدام کرتے نظر آتے ہیں۔“ جارج رومینس جو ایک بڑا فاضل حیاتیات ہے لکھتا ہے : ” علم نجوم کی نئی معلومات سے جن کا حصول نئی میکانیات اور ذراتی علم کی بنا پر ممکن ہوا ہے کائنات کی طبیعیاتی بلندیوں خصوصًا اس مسلسل عمل اور ردّ عمل کو دیکھ کر ہمارے دماغ چکراگئے ہیں جو وہاں نظر آرہا ہے۔ یہ تمام بلکہ ان سے اور بھی زیادہ معلومات کا حصول اس مسلسل تلاش وجستجو کامر ہون منّت ہے جو اسباب اور ان کے پس پردہ نتائج معلوم کرنے کے لیے جاری ہے۔ اسباب ونتائج کو ایک دوسرے سے جد انہیں کیا جاسکتا۔ یہ دونوں معنوی طور پر ایک وحدت ہیں۔ ہم انسان اور ہمارے گردوپیش کی دنیا سب مل کر نتائج کا ایک مجموعہ ہیں اور اس مجموعہ کی تہہ میں اس کے پس پشت ایک غیر مرئی سبب اور ازلی علّت موجود ہے جس کو میں خدا کہتاہوں۔“ [ ماخوذ از : خدا موجود ہے، چالیس سائنسدانوں کی شہادت] مسائل ١۔ اللہ کے بندے اٹھتے بیٹھتے اور اپنے بستروں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی قدرتوں پر غور و خوض کرتے ہیں۔ تفسیربالقرآن دعوت فکر : ١۔ حق پہچاننے کے لیے آفاق پر غور کرنے کی دعوت۔ (حمٓ السجدۃ: ٥٣) ٢۔ اپنی ذات پر غور وفکر کی دعوت۔ (الذاریات : ٢١) ٣۔ رات کے سکون پر غور کرنے کی دعوت۔ (القصص : ٧٢) ٤۔ دن رات کے بدلنے میں غور و خوض کی دعوت۔ (المومنون : ٨٠) ٥۔ شہد کی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت۔ (النحل : ٦٩)