سورة النجم - آیت 3

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے الزامات کی تردید کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ وحی کے بغیر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں بولتے۔ لہٰذا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ فرما رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بھی قسم اٹھائی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنی خواہش کے پیچھے چلنا تو درکنار آپ اپنی مرضی سے دین کے معاملہ میں لب کشائی نہیں کرتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ فرماتے اور کرتے ہیں وہ آپ پروحی کی جاتی ہے۔ جو فرشتہ آپ کو وحی پہنچاتا ہے وہ جبرائیل امین ہے جو بڑا طاقت والاہے۔ اس نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ آپ تک پہنچایا ہے وہ اللہ کے حکم سے پہنچایا : (اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب اطہر پر اتارا ہے۔ البقرۃ: ٩٧) اہل علم نے ” ذُوْمِرَّۃٍ“ کے تین معانی کیے ہیں۔ بڑا طاقتور، خوبصورت اور صاحب حکمت۔ حضرت جبرائیل میں یہ خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ (عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یکَرِبَ الْکِنْدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَلاَ إِنِّی أُوتِیتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ أَلاَ إِنِّی أُوتِیتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ) (مسند احمد : باب حدیث المقدام بن معدیکرب، حکمہ صحیح) ” مقدام بن معدیکرب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خبردار بے شک مجھے کتاب اور اس جیسی اور چیز عطا کی گئی ہے۔ خبردار مجھے قرآن اور اس جیسی ایک اور چیز عطا کی گئی ہے۔“ ” عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو کچھ میں آپ سے سنتا ہوں لکھ لیا کروں؟ آپ نے فرمایا ہاں ! میں نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ کبھی خوش ہوتے ہیں اور کبھی ناراضگی کی حالت میں۔ آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو! کیونکہ میں حق کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتا۔“ (رواہ ابوبکر فی مسند البزار : باب ہَذَا مَا حَدَّثَ بِہِ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال البانی اسنادہ حسنٌ)