سورة آل عمران - آیت 188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

وہ جو اپنے کئے پر خوش ہوتے اور جو نہیں کیا اس پر اپنی تعریف چاہتے ہیں (ف ٢) ان کو عذاب سے چھوٹا ہوا نہ جان ۔ اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہے (ف ٣)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید تحریری شکل میں نازل نہیں ہوا یہ پر مغز خطابی انداز میں نازل ہوا ہے اس لیے مخاطب کو سمجھانے کے لیے جس پیرائے اور الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے وہی استعمال ہوتے ہیں جو موقعہ کے مطابق ہوں جس بنا پر بات کا تعلق بہت پیچھے کی بات سے جوڑ کر اسے کسی دوسرے انداز میں سمجھایا جاتا ہے یہاں یہ سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی مخالفت اور دنیا کی خاطر تم بخل اور خوشامد کرتے ہو اس وجہ سے جو تمہارا انجام ہونے والا ہے اس کی طرف توجہ دو۔ انسان کی اخلاقی گراوٹ کی انتہا دیکھنا ہو تو اس شخص کے کردار کی طرف دیکھیے جو گناہ پر معذرت کرنے کے بجائے اس پر اصرار کرتے ہوئے خوش ہوتا اور فخر محسوس کرتا ہے۔ ایسے آدمی کی عادت ہوجاتی ہے کہ وہ صرف صحت مند تنقید سننا گواراہی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے عمل اور ناپسندیدہ کردارکی بھی تعریف چاہتا ہے۔ جس شخص کی یہ حالت ہوجائے اس کے سنورنے کی تمام صورتیں ختم ہوجایا کرتی ہیں۔ اگر ایسا شخص کسی ملک یا قوم کا سربراہ ہو تو ہلاکت اس قوم کا مقدر ہوا کرتی ہے۔ اہل کتاب کے علماء اور زعماء کی یہی حالت تھی کہ وہ ہر حال میں اپنی تعریف سننا پسند کرتے تھے یہاں تک کہ جس کام کے ساتھ ان کا دور کا تعلق نہ ہوتا اس کی بھی تعریف چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ مفاد پرست اور جاہل لوگ ان کی ذات اور خاندان میں وہ وہ خوبیاں ظاہر کرنے کی کوشش کرتے جن کا ان کے ہاں تصور بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ اپنی کردہ اور ناکردہ خدمات کی تعریف چاہنے والا شخص مغرور‘ ریا کار اور خود پسند ہوجایا کرتا ہے۔ اس قسم کے کردار کے حامل لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ آخرت میں بھی ان کی تعریف اور خوشامدہو گی اور وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ ہرگز نہیں ان کے لیے تو رب ذوالجلال نے نہایت ہی تکلیف دہ عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس طرح کی اخلاقی بیماریوں سے بچنے اور بچانے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کے رو برو تعریف کرنے والے کے بارے میں فرمایا ایسا شخص دوسرے کو کند چھری کے ساتھ ہلاک کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ اأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اأنْ نَّحْثُوَ فِیْ أَفْوَاہِ الْمَدَّاحِیْنَ التُّرَابَ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزھد، باب ماجاء فی کراھیۃ المدحۃ والمداحین] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ہم کسی کے منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالیں۔“ (عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاس (رض) قَبْلَ مَوْتِھَا عَلٰی عَاءِشَۃَ وَھِیَ مَغْلُوْبَۃٌ قَالَتْ أَخْشٰی یُثْنِیَ عَلَیَّ فَقِیْلَ ابْنُ عَمِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَمِنْ وُجُوْہِ الْمُسْلِمِیْنَ قَالَتْ إِءْذَنُوْا لَہٗ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدِیْنَکِ قَالَتْ بِخَیْرٍ إِنِ اتَّقَیْتُ قَالَ فَأَنْتِ بِخَیْرٍ إِنْ شَآء اللّٰہُ زَوْجَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَلَمْ یَنْکِحْ بِکْرًا غَیْرَکِ وَنَزَلَ عُذْرُکِ مِنَ السَّمَاءِ وَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ خِلَافَہٗ فَقَالَتْ دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ (رض) فَأَثْنٰی عَلَیَّ وَوَدِدْتُّ أَنِّیْ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب ولولا إذ سمعتموہ قلتم مایکون لنا أن نتکلم بھذا] ” ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں حضرت عائشہ (رض) جب موت کے قریب تھیں تو اس وقت عبداللہ بن عباس (رض) نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تعریف نہ کرنے لگیں۔ کسی نے عرض کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد بھائی اور خود بھی عزت دار ہیں اس پر انہوں نے کہا کہ انہیں اندر بلالو۔ ابن عباس (رض) نے ان سے پوچھا کہ آپ کس حال میں ہیں؟ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اللہ سے ڈرنے والی ہوں تو اچھا ہی اچھا ہے۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا انشاء اللہ آپ اچھی ہی رہیں گی آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ ہیں اور آپ کی براءت آسمان سے نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے تشریف لے جانے کے بعد آپ کی خدمت میں ابن زبیر (رض) حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ (رض) نے ان سے فرمایا کہ ابھی ابن عباس آئے تھے اور میری تعریف کی کاش! میں بھولی بسری گمنام ہوتی۔“ مسائل ١۔ جو لوگ ہر کام پر اپنی تعریف چاہتے ہیں وہ آخرت کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ تفسیربالقرآن اپنی تعریف کروانا بہتر نہیں : ١۔ خواہ مخواہ تعریف کروانے والا جہنم میں جائے گا۔ (آل عمران : ١٨٨) ٢۔ اپنی پاک دامنی کا دعو ٰی کرنا بہتر نہیں۔ (النجم : ٣٢) ٣۔ اللہ کے نیک بندے شکریہ سے مبرّا ہوتے ہیں۔ (الدھر : ٩) ٤۔ پاک وہی ہے جسے اللہ پاک کرے۔ (النساء : ٤٩)