سورة الطور - آیت 36

أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ وہ یقین (ف 2) نہیں کرتے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی دعوت اللہ کی توحید پر سچے دل کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اہل مکہ کو اس دعوت کے ساتھ ترین اختلاف تھا جس بنا پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الزام دیتے کہ اس نے اپنی طرف سے قرآن بنالیا ہے۔ اس موقعہ پر اہل مکہ سے اس کے جواب میں پندرہ سوال کیے گئے جن کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے لیکن پھر بھی اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ اہل مکہ کو قرآن اور صاحب قرآن کے ساتھ بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ہمیں اپنے معبودوں کی عبادت سے کیوں روکتا ہے۔ اس لیے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ اس قرآن کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کاہن، جادوگر اور شاعر کہنا شروع کردیا۔ قرآن مجید نے ان الزامات کے اور بھی جواب دیئے ہیں لیکن اس موقع پر یہ جواب دئیے۔1۔ کیا یہ لوگ کسی کے پیدا کیے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا خود اپنے آپ کو پیدا کرنے والے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی سچائی پریقین نہیں رکھتے۔ 2۔ کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ ان پر چوکید ار بنائے گئے ہیں ؟ 3۔ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی (LIFT) ہے جس کے ذریعے آسمان پر پہنچ کر قضا و قدر کے فیصلے سن لیتے ہیں ؟ اگر ان کے پاس اس بات کی کوئی واضح دلیل ہے تو اسے پیش کریں۔ اہل مکہ رسمی طور پر مانتے تھے کہ انہیں اور زمین و آسمانوں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے لیکن حقیقی ایمان نہ ہونے کی وجہ سے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس قسم کے اعتراض کرتے تھے جس سے ثابت ہوتا تھا کہ اللہ کے خالق ہونے پر ان کا ایمان نہیں ہے۔ اگر ان کا حقیقی طور پر ایمان ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور زمین و آسمانوں کا خالق ہے تو وہ قرآن اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس قسم کے اعتراض نہ کرتے۔ خالق کا معنٰی ہے کہ بغیر کسی نمونے کے ہر چیز کو پیدا کرنے والا۔ جب اللہ تعالیٰ کو حقیقی طور پر خالق اور اپنے آپ کو مخلوق یعنی اس کا بندہ مان لیا تو اس قسم کے اعتراضات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیوں قرآن نازل کیا ہے اور قرآن غیر اللہ کی عبادت سے کیوں منع کرتا ہے کسی کو نبی منتخب کرنا اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب اور اختیار ہے لوگوں کی راہنمائی کے لیے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی بنانا اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت کا مظہر ہے۔ اس لیے کفار سے یہ سوال کیا گیا۔ کیا وہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں یا انہیں ان کا چوکیدار بنایا گیا ہے یا وہ آسمانوں پر چڑھ کر قضا و قدر کے فیصلے جان چکے ہیں؟ کہ قرآن کس پر نازل ہونا چاہیے اور کس پر نازل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ان سوالات کے جواب میں کوئی دلیل نہیں رکھتے۔ جب ان کے پاس ان کے الزامات کا جواب نہیں ہے تو انہیں ہرزہ سرائی سے باز آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانا اور قرآن مجید کی دعوت پر یقین کرنا چاہیے۔ ان کی بے انصافی اور ہرزہ سرائی کا عالم یہ ہے کہ یہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں اور ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بیٹا یا بیٹی نہیں بنایا کیونکہ وہ ان چیزوں سے پاک اور مبرّاہے۔ گویا کہ یہ اس قدر غیر ذمہ دار اور کذاب لوگ ہیں کہ ان کی کسی بات پر یقین کرنا تو درکنار ان کی بات پر کان بھی نہیں دھرنا چاہیے۔ مسائل ١۔ ” اللہ“ ہی نے انسان اور ہر چیزکو پیدا کیا ہے اس کے سوا کوئی کچھ پیدا نہیں کرسکتا۔ ٢۔ زمین و آسمانوں کو صرف ” اللہ“ ہی نے پیدا کیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے خزانوں کا خود مالک ہے کوئی اس کے خزانوں پر اختیار نہیں رکھتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ بیٹی وہ اولاد اور ہر قسم کی محتاجی اور ضرورت سے بے نیاز ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے : ١۔ ” اللہ“ بہت بلند ہے اس چیز سے جو لوگ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : ٣) (النحل : ١) (النمل : ٦٣) (القصص : ٦٨) ( الزمر : ٦٧) (الطور : ٤٣) ( البقرۃ: ١١٦) (یونس : ١٨) (مریم : ٣٥)