سورة الطور - آیت 22

وَأَمْدَدْنَاهُم بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جس قسم کا میوہ اور گوشت وہ چاہیں گے ۔ ہم ان کے لئے ریل پیل لگادیں گے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح کم درجے رکھنے والی اولاد پر کرم فرما کر انہیں ان کے ماں باپ کے ساتھ ملانے کے لیے اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ جنتی کے اعمال سے زیادہ انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو خوش رکھنے کے لیے وہ کچھ عطا فرمائے گا جو وہ چاہیں گے۔ جنت میں نعمتیں بے شمار ہوں گی لیکن پھل اور گوشت کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ پھل اور گوشت ہر انسان کی مرغوب اور پسندیدہ خوراک ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر پھلوں کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے : ” ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کو خوش خبری دیجیے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں۔ جب وہ پھلوں سے رزق دیے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ وہی ہیں جو ہم اس سے پہلے دیے گئے تھے، انہیں اس سے ملتے جلتے پھل دیے جائیں گے اور ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے۔“ (البقرۃ: ٢٥) (وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ) (الواقعۃ: ٢١) ” اور پرندوں کا گوشت ہوگا جس کا وہ چاہیں گے۔“ پھل اور گوشت کھانے کے بعد جنتی کو شراب سے بھرے ساغر پیش کیے جائیں گے جس میں کسی قسم کا نشہ اور فتور نہیں ہوگا اور نہ ہی جنتی کسی قسم کی بے ہودہ گوئی اور بری حرکت کریں گے۔ البتہ پکنک (Picnic) کے موڈ اور بے تکلفی کے عالم میں ایک دوسرے سے شراب کے جام جھپٹ رہیں ہوں گے۔ گویا کہ ماں باپ، اولاد اور جنتی کا آپس میں بے حد پیار ہوگا۔ ان کی خدمت میں جام اور کھانے پیش کرنے کے لیے غلمان ہوں گے۔ دنیا میں دفتروں اور گھروں میں خدمت کرنے والے ملازم اپنی غربت اور کام کی وجہ سے صاف ستھرے نہیں ہوتے، نہ ہی ان کی اکثریت شکل و صورت میں بہتر ہوتی ہے اور نہ ہی گفتگو کرنے میں خوش گفتار ہوتے ہیں۔ جنت کے غلمان جو بارہ تیرہ سال کے بچے ہوں گے اتنے خوش لباس، خوش اخلاق اور خوبصورت ہوں گے گویا کہ ایسے موتی ہیں جو صدف سے ابھی ابھی نکالے گئے ہیں۔ بالفاظ دیگر شہزادے بادشاہوں کے خدمت گار ہوں گے۔ غلمان جنت کی انتہائی خوبصورت مخلوق ہوگی جن میں کفار کے مرنے والے معصوم بچے بھی شامل ہوں گے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ غلمان کی شکل و صورت میں پیدا کرے گا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِکِینَ فَقَال اللَّہُ إِذْ خَلَقَہُمْ أَعْلَمُ بِمَا کَانُوا عامِلِینَ.) (رواہ البخاری : باب مَا قیلَ فِی أَوْلاَدِ الْمُشْرِکِینَ) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا ہے اس لیے وہ خوب جانتا ہے کہ انہوں نے کیا اعمال کرنے تھے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو ان کے مَن پسند کے پھل اور گوشت عطا فرمائے گا۔ ٢۔ جنتی کو نشے سے پاک شراب پیش کی جائے گی۔ ٣۔ جنتی تفریح کے ماحول میں ایک دوسرے سے جھپٹا جھپٹی کریں گے۔ ٤۔ جنتی کی خدمت میں انتہائی خوبصورت اور معصوم غلمان پیش کیے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بے خار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا اور گھناسایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٠) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : ٢٣) ٥۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ: ٣١) ٦۔ مومنوں کے ساتھ جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں صاف پانی، شہد، شراب اور دودھ کی نہریں ہونگی۔ (محمد : ١٥)