سورة الطور - آیت 12

الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جو باتیں بناتے ہوئے کھیلتے ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے دن کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ ویل کا معنٰی جہنم بھی ہے کیونکہ اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ اس لیے جہنم کو ویل کہا گیا ہے۔ ویل ان لوگوں کے لیے ہوگی جو قیامت کی تکذیب اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ جب ان کے سامنے قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو کرتے ہیں۔ جب انہیں قیامت کے دن جہنم کی آگ میں دھکیلا اور پھینکا جائے گا تو فرشتے انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے کہیں گے کہ یہی وہ آگ اور جہنم ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ آنکھیں کھول کر دیکھ لو جسے تم جادو کہا کرتے تھے کیا یہ جادو ہے یا حقیقت؟ جسے تم جھٹلاتے اور شغل کا نشانہ بنایا کرتے تھے اب اس میں داخل ہوجاؤ۔ یہاں صبر کرو یا واویلا کرو تمہارے لیے برابر ہے۔ یہ اس کی سزا ہے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے اس میں تم نے ہمیشہ ہمیش رہنا ہے۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (وَسِیقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا حَتّٰی اِِذَا جَاءُوہَا فُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا قَالُوْا بَلٰی وَلٰکِنْ حَقَّتْ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ قِیْلَ ادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا فَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ) (الزمر : ٧١، ٧٢) ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے جب وہ جہنم کے قریب پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور اس کے چوکیدارملائکہ جہنمی سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہی میں سے رسول نہیں آئے تھے، جنہوں نے تمہارے رب کی تمہیں آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ تمہیں یہ دن دیکھنا ہوگا۔ جہنمی جواب دیں گے ہاں آئے تھے مگر عذاب کا فیصلہ ہم پر سچ ثابت ہوا۔ کہا جائے گا کہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ یہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ یہ متکبروں کے لیے بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے۔“ مسائل ١۔ جو لوگ قیامت کی تکذیب کرتے ہیں ان کے لیے ہلاکت اور جہنم ہوگی۔ ٢۔ قیامت کے دن انہیں جہنم کی آگ میں دھکیلا جائے گا۔ ٣۔ جب انہیں جہنم میں دھکیلا جائے گا تو ملائکہ انہیں کہیں گے کہ یہ وہی آگ ہے جسے تم دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن جہنم کی آگ کی حالت : ١۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ: ٢٤) ٢۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ تیز ہوگی۔ (التوبۃ: ٨١) ٣۔ مجرم لوگ جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : ١٢) ٤۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : ٣٠) ٥۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے اور اس پر سخت گیر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ (التحریم : ٦) ٦۔ مجرموں کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ اس کی چٹخارسنیں گے۔ (الملک : ٧) ٧۔ جہنم کی آگ کے شعلے بڑے بڑے مکانوں کے برابر ہوں گے۔ ( المرسلات : ٣٢) ٨۔ مجرموں کو جہنم میں آگ کے بڑے بڑے ستونوں سے باندھا جائے گا۔ ( ہمزہ : ٩٠) ٩۔ جہنمی کو آگ کا لباس پہناکر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (الحج : ١٩) ١٠۔ اس دن مجرموں کو ایک دوسرے کے ساتھ جکڑا ہوا دیکھیں گے اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوگی۔ (ابراہیم : ٤٩۔ ٥٠) ١١۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧)