سورة الذاريات - آیت 38

وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور موسیٰ کے حال میں نشانیاں ہیں جب ہم نے اسے کھلی سند دے کر فرعون کی طرف بھیجا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام۔ ” ہم نے اپنی نشانیاں دے کر موسیٰ کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ موسیٰ نے کہا اے فرعون! بے شک میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ اس بات پر پوری طرح قائم ہوں کہ اللہ کے ذمے حق کے سوا کچھ نہ کہوں بلاشبہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیاہوں۔ اس لیے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ اس نے کہا اگر تو کوئی نشانی لے کر آیا ہے تو وہ پیش کر۔ اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ایک اژدہا تھا اور اپنا ہاتھ باہرنکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمک رہا تھا۔“ (الاعراف : ١٠٣ تا ١٠٨) ” جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا تو کہنے لگے یقیناً یہ تو واضح طور پر جادو ہے۔ موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں یہ کہتے ہو، جب وہ تمھارے پاس آیا۔ کیا یہ جادو ہے ؟ جادوگر تو کامیاب نہیں ہوتے۔ انھوں نے کہا۔ کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور ملک میں تمہیں بڑائی حاصل ہوجائے۔ ہم تمہیں کسی صورت ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، فرعون نے اپنے ساتھیوں سے کہا میرے پاس ہر ماہر جادوگر لے کر آؤ۔ جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا ڈالو جو کچھ تم ڈالنا چاہتے ہو۔ جب انھوں نے ڈالا، موسیٰ نے فرمایا تم جو کچھ لائے ہو یہ تو جادو ہے، یقیناً اللہ اسے جلدہی جھوٹا ثابت کردے گا۔ بے شک اللہ مفسدوں کے کام کو کامیاب نہیں کرتا۔ اللہ حق کو اپنے فرمان کے ساتھ حق ثابت کردیتا ہے، خواہ مجرم اسے ناپسند کریں۔“ (یونس : ٧٦ تا ٨٢) ” فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کرنا چاہتا ہوں بے شک یہ میرے مقابلے میں اپنے رب کو لے آئے۔ مجھے خطرہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کردے گا۔ موسیٰ نے کہا میں نے ہر متکبر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی ہے۔” اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا بول اٹھا کیا تم ایک شخص کو اس بناء پر قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب ” اللہ“ ہے، اور وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح دلائل لے کر آیا ہے، اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ جائے گا۔ اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج سے تمہیں ڈراتا ہے۔ وہ تمہیں بھگتنے پڑیں گے، اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور جھوٹا ہو۔“ (المومن : ٢٦ تا ٢٨) ” ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سر کشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو کہا کہ میں ایمان لایا یقیناً حقیقت یہ ہے کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں فرمانبرداروں سے ہوں۔ کیا اب ؟ حالانکہ تو نافرمان تھا اور تو فساد کرنیوالوں میں سے تھا۔ پس آج ہم تیرے وجود کو بچا لیں گے، تاکہ تو ان کے لیے عبرت بنے جو تیرے بعد آنے والے ہیں اور یقیناً بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غفلت برتنے والے ہیں۔“ (یونس : ٩٠ تا ٩٢) تفسیربالقرآن فرعون اور اس کے حواریوں کا انجام : ١۔ آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الاعراف : ٦٤) ٢۔ ہم نے فرعونیوں سے انتقام لیا اور انہیں دریا برد کردیا۔ (الزخرف : ٥٥) ٣۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : ١٠٣) ٤۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الشعراء : ٦٦) ٥۔ ہم نے انہیں اور ان کے لشکروں کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ (الذاریات : ٤٠) ٦۔ آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنائیں۔ (یونس : ٩٢) ٧۔ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور وہ انہیں دوزخ میں لے جائے گا۔ (ہود : ٩٨)