سورة آل عمران - آیت 176

وَلَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ ۚ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا ۗ يُرِيدُ اللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور تو ان کی طرف سے جو کفر میں دوڑتے ہیں غمگین نہ ہو ۔ وہ ہرگز خدا کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکیں گے ، خدا چاہتا ہے کہ انہیں آخرت میں کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔ (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی سازشوں اور شیطان کے ساتھیوں کی شرارتوں سے دل گیر نہیں ہونا چاہیے انہیں دنیا اور آخرت میں اذیت ناک سزا ملنے والی ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ منافقوں کے ساتھ درگزر کا رویّہ اختیار کیا اور ہر موقع پر انہیں سمجھاتے رہے تاکہ ان کی دنیا اور آخرت سدھر جائے۔ لیکن وہ سدھرنے کے بجائے شرارتوں اور منافقت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ آپ کی درگزر اور اعلیٰ ظرفی سے انہوں نے ہمیشہ غلط فائدہ اٹھایا اور ہر نازک موقعہ پر خبث باطن کا اظہار اور اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کرتے رہے۔ احد کی لڑائی میں مسلمانوں کا پلڑا ہلکا رہا جس سے انہیں امید ہوگئی کہ اب مسلمان ختم ہوجائیں گے اس لیے سر عام مسلمانوں سے الگ ہوگئے۔ ان کے منافقت میں آگے بڑھنے اور مسلمانوں سے الگ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دلی رنج پہنچا کہ یہ کیسے ناعاقبت اندیش اور بدنصیب لوگ ہیں؟ جو سدھرنے کی بجائے نافرمانیوں میں آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں اس پر آپ کو تسلی دی گئی کہ میرے نبی! اطمینان خاطر رکھو کیونکہ آپ کا کام تو فقط سمجھانا ہے جس میں آپ نے کسی غفلت کا ارتکاب نہیں کیا۔ یہ جو چاہیں کرلیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے چاہتا ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے۔ بلاشبہ جو لوگ ایمان کے مقابلے میں کفر کو ترجیح دیتے ہیں وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ان کے لیے عظیم اور اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مسائل ١۔ کفار کی سرگرمیاں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔ ٢۔ ایمان کے بجائے کفر کو ترجیح دینے والے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔