سورة ق - آیت 19

وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور موت کی بیہوشی جس کا آنا یقینی ہے آکر رہے گا یہ وہ ہے جس سے تو بدکتا تھا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور قدرت کا ذکر فرما کر انسان کو نیک بنانے کی کوشش فرمائی ہے مگر اکثر انسان اپنے رب کے تابعدار بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے یہاں تک کہ موت انہیں آلیتی ہے۔ موت برحق ہے جو نہ نیک کو چھوڑتی ہے اور نہ برے آدمی سے ٹلتی ہے۔ ہر انسان کو موت کے وقت اپنے کیے کا احساس ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھتا ہے تو پھر اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب میرا بچنا محال ہے۔ اس وقت دل ہی دل میں آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے مہلت مل جائے اور میں اللہ کی راہ میں صدقہ دے کر اپنے آپ کو بچا سکوں۔ لیکن جب موت وارد ہوتی ہے تو وہ کسی کو ایک لمحہ بھی مہلت نہیں دیتی۔ اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے جو کچھ لوگ کرتے ہیں۔ (المنافقون : ١٠، ١١) انسان موت سے کلیتاً ختم نہیں ہوجاتا بلکہ یہ عالم برزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔ برزخ کو برزخ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک پردہ ہے۔ قیامت کے دن جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا توانسان کی آنکھوں سے برزخ کا پردہ اٹھ جائے گا اور اسے یقین ہوجائے گا کہ آج کا دن وہ دن ہے جس کے بارے میں مجھے بار بار تنبیہ کی جاتی تھی۔ لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا اور ملائکہ ہر کسی کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک فرشتہ انسان کو پیچھے سے ہانک رہا ہوگا اور دوسرا اس کا اعمال نامہ لیے ہوئے اسے اللہ کے حضور پیش کرے گا۔ گویا کہ مجرم بھی حاضر ہوگا اور اس کاریکارڈ بھی پیش کیا جائے گا۔ ملائکہ مجرم اور اس کے اعمال پیش کرنے کے ساتھ ہی انسان کے اعمال نامے کی گواہی دیں گے کہ یہ اعمال نامہ اسی مجرم کا ہے اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کا ایک ایک لفظ حقیقت پر مبنی ہے۔ اس دن انسان کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اٹھادیا جائے گا تو رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ آج ہم نے تیرے سامنے سے پردہ اٹھا دیا ہے اور تیری نگاہ بھی پہلے سے زیادہ تیز ہوچکی ہے۔ جس صور کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے اس سے مراد وہ صور ہے جو دوسری دفعہ پھونکا جائے گا۔ پہلے صور سے ہر چیز فنا ہوجائے گی اور دوسری دفعہ صور پھونکنے سے قیامت برپا ہوجائے گی اور ہر کوئی اپنی قبر سے نکل کر محشر کے میدان میں جمع ہوگا جس کی تفصیل حدیث میں موجود ہے۔ اس وقت ہر انسان کو ایک فرشتہ ہانک رہا ہوگا اور دوسرا اس کے اعمال نامے کو لیے ہوئے اسے رب ذوالجلال کے حضور پیش کرے گا۔ نگاہ تیز ہونے سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں انسان کی آنکھوں کے سامنے ایک پردہ حائل ہے جس سے نہ وہ قبر کا منظر دیکھ سکتا اور نہ اس کے سامنے حشر کا انجام ہوتا ہے۔ لیکن جونہی انسان کو موت آتی ہے تو اس کے سامنے عالم برزخ کا منظر آجاتا ہے۔ قیامت کے دن اس کے سامنے ہر چیز آشکارا ہوجائے گی اور وہ کھلی اور تیز آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھے گا۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْءًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ) (رواہ البخاری : باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم) ” حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام کریں گے، اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، پھر وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، انسان دیکھے گا تو اس کے سامنے آگ ہوگی جو تم سے آگ سے بچنے کی استطاعت رکھتا ہے کوشش کرے۔ چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ۔۔ اگر وہ یہ نہ پائے تو اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے۔“ بعض لوگ اپنی بینائی کو تیز کرنے کے لیے آیت ٢٢ کو پڑھ کر اپنی آنکھوں پر دم کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید میں شفاء ہے لیکن غور فرمائیں کہ یہ الفاظ کن لوگوں کو کہے جائیں گے اور ان میں کس قدر انتباہ پایا جاتا ہے۔ افسوس ! ہم نے عبرت حاصل کرنے کی بجائے اسے دم بنا لیا ہے۔ کیا بہتر نہیں کہ اپنے وجود کی سلامتی کے لیے وہ دم کریں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے لیے پسند فرمایا ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَانَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُول اللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی جَسَدِی وَعَافِنِی فِی بَصَرِی وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ سُبْحَان اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ) (رواہ الترمذی : کتاب الدعوات عن رسول اللہ، باب ماجاء فی جامع الدعوات عن النبی، قال البانی ہذا حدیث صحیح) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میرے جسم کو عافیت دے اور میری بصارت کو بھی عافیت دے اور میری طرف سے اس کو وارث بنا دے۔ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں جو حلیم اور عزت والا ہے، اللہ پاک ہے اور بہت بڑے عرش کا رب ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“ ” وَعِیْدٌ“ کا معنٰی ہے دھمکی دینا کسی کو برے انجام سے ڈرانا۔ (المنجد) مسائل ١۔ اسرافیل کے دوسرا صور پھونکنے پر ہر انسان اٹھ کھڑا ہوگا اور اسے یقین ہوجائے گا کہ یہی قیامت کا دن ہے۔ ٢۔ قیامت کے دن انسان کو ایک فرشتہ پیچھے سے ہانک رہا ہوگا، دوسرا اس کا اعمال نامہ پیش کرے گا۔ ٣۔ قیامت کے دن انسان کی غفلت کا پردہ چاک ہوجائے گا اور ہر کوئی اپنا انجام کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھے گا۔ تفسیر بالقرآن پہلا اور دوسرا صورپھونکنے کے بعد کا منظر : ١۔ پہلے نفخہ سے لوگ بے ہوش ہوجائیں گے اور دوسرے نفخہ سے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (الزّمر : ٦٢) ٢۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ ہی تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ (یٰس : ٥١) ٣۔ ایک چیخ سے ہی تمام لوگ ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔ (یٰس : ٥٣) ٤۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (النبا : ١٨) ٥۔ جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو جمع کرلیں گے۔ (الکھف : ٩٩) ٦۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو ہم نیلی پیلی آنکھوں والے مجرموں کو گھیر لائیں گے۔ (طہٰ: ١٠٢) ٧۔ جس دن صورپھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین والے سب کے سب گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ چاہے اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (النمل : ٧٨)