سورة ق - آیت 12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اس سے پہلے قوم نوح اور کنوئیں والوں اور ثمود نے جھٹلایا تھا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں بارش کا ذکر کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ جس طرح بارش کے بعد زمین سے بیج نکلتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن زمین سے نکال لے گا اور تمہیں اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ یہ اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود افراد ہی نہیں بلکہ بڑی بڑی اقوام نے قیامت کے دن کا انکار کیا جس وجہ سے ان کا دنیا میں بھی برا انجام ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دلائل دیتے ہوئے انسان کو باربار سمجھایا ہے کہ اے انسان! تو نے مرنے کے بعد ہر صورت زندہ ہو کر میری بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینے کا عقیدہ ہی انسان کو درست رکھتا ہے۔ جب آخرت کا عقیدہ کمزور ہوجائے تو افراد ہی نہیں بڑی بڑی اقوام بھی مجرم اور ظالم بن جاتی ہیں۔ جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ایک دوسرے کے لیے ظالمانہ رویہ اختیار کیا ان میں سرِفہرست قوم نوح، کنویں والے، قوم ثمود، قوم عاد، فرعون اور اس کے ساتھی، اخوان لوط اور قوم تبع ہے۔ جس وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے کیا ہوا عذاب کا وعدہ پورا فرمایا۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ پیدا کرکے تھک گیا ہے کہ وہ لوگوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا؟ ظاہر بات ہے کہ جب انسان کوئی چیز پہلی مرتبہ بناتا ہے تو اس کے لیے اسے بنانا آسان ہوتا ہے غور کریں کہ خالقِ کائنات کے لیے لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوگا؟ جس بنا پر لوگ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں وہ شک میں مبتلا ہیں ان کے پاس شک کے سوا کوئی دلیل نہیں۔ (قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا) (بنی اسرائیل : ٥٠) ” فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔“ علامہ طبری (رض) فرماتے ہیں کہ کنویں والوں سے مراد اصحاب الاخدود ہیں جن کا ذکر سورۃ بروج میں ہوا ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) تبع سے مراد یمن کی قوم سبا ہے جن کی تباہی کا منظر سورۃ سبا میں گزر چکا ہے۔ اور اصحاب الایکہ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے جن کو مدین والے بھی کہا گیا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوسری مرتبہ پیدا کرے گا۔ ٢۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ ٣۔ قیامت کا انکار کرنے والے صرف شک کی بنیاد پر انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اقوام کی تباہی کا ایک منظر : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : ٦) ٢۔ تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : ١٣) ٣۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : ١٣٦) ٤۔ ثمود زوردار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : ٥) ٥۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقہ : ٦) ٦۔ آل فرعون کو سمند میں ڈبو دیا گیا۔ (ٍیونس : ٩٠) ٧۔ قوم لوط کی بستی کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ (الحجر : ٧٤) ٨۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ تھے خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : ٨٢) ٩۔ قوم لوط کو ایک سخت آواز نے پکڑ لیا۔ (الحجر : ٧٣) ١٠۔ ہم نے قوم لوط پر پتھروں کی بارش نازل کی دیکھیے مجرموں کا انجام کیسے ہوا۔ (الاعراف : ٨٤)