سورة الحجرات - آیت 2

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مومنو ! نبی کی آواز پر اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اور اس کے ساتھ زور زور سے باتیں نہ کرو ۔ جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ زور زور سے باتیں کرتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں ۔ اور تمہیں خبر بھی نہ ہو

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے رسول سے آگے بڑھنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اپنی بات کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات سے بلند رکھا جائے۔ اس سے منع کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں یہ حکم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ آگے بڑھنے کا مفہوم پیچھے ذکر ہوچکا ہے اب صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لے کر مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اپنی آواز کو اونچی نہ کرو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام نہیں لیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دور یا نزدیک، بلند اور آہستہ آواز میں پکارا جاسکتا ہے اور ہر حال میں اسی کو پکارنا چاہیے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں آپ کو نہ دور سے پکارا جاسکتا ہے اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرنے والے کی آواز اونچی ہونی چاہیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لے کر دور سے آواز دینا اب بھی جائز نہیں کیونکہ اسی صورت کی چوتھی آیت میں اس بات سے منع کیا گیا ہے۔ جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حیات تھے اس وقت تک آپ کے سامنے آواز اونچی کرنا جائز نہیں تھا۔ اب اس کا یہ مفہوم ہوگا کہ کوئی شخص اپنی یا کسی کی ذات اور بات کو نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور بات سے اونچا نہ سمجھے۔ اونچا سمجھنے سے مراد آپ کے فرمان سے اپنی یا کسی بزرگ کی بات کو مقدم سمجھنا ہے۔ جس نے یہ کیا اس کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات اور بات کو وہ مقام بخشا ہے جس تک کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے حکم ہے کہ اپنی آوازوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اونچا نہ کرو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو دور یا نزدیک سے اونچی آواز سے بلاتے ہو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارے سارے کے سارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور تمہیں اس کی خبر بھی نہیں ہوگی۔ گویا کہ اسے توبہ کرنے کا موقعہ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ غور فرمائیں کہ وہ مسلمان کتنا بدقسمت ہے جس کے سارے اعمال ضائع ہوجائیں اور اسے خبر تک نہ ہو سکے اور نہ وہ توبہ کرسکے۔ (وَعَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ کَانَ ثَابِتُ ابْنُ قَیْسِ ابْنِ شَمَّاسٍ خَطِیْبَ الْاَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ (یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْالَاتَرْفَعُوْااَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ۔۔ اِلٰی اٰخِرِالْاٰیَۃِ) جَلَسَ ثَابِتٌ فِیْ بَیْتِہٖ وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَسَأَلَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سَعْدَ ابْنَ مُعَاذٍ مَا شَاْنُ ثَابِتٍ اَیَشْتَکِیْ فَاَتَاہُ سَعْدٌ فَذَکَرَلَہٗ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَقَالَ ثَابِتٌ اُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ اَنِّیْ مِنْ اَرْفَعِکُمْ صَوْتًا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ فَاَنَا مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَذَکَرَ ذَالِکَ سَعْدٌ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَلْ ھُوَمِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ) (رواہ مسلم : باب مَخَافَۃِ الْمُؤْمِنِ أَنْ یَحْبَطَ عَمَلُہُ) ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ثابت بن شماس (رض) انصار میں اونچی آواز والے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ” اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔۔“ (الحجرات : ٢) تو ثابت (رض) اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونا چھوڑ دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثابت کے متعلق سعد بن معاذ سے فرمایا کہ کیا وہ بیمار ہیں ؟ حضرت سعد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، حضرت ثابت (رض) کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پوچھنے کے بارے میں آگاہ کیا۔ حضرت ثابت (رض) نے وضاحت کی کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں میری آواز سب لوگوں کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اس بنا پر میں جہنمی ہوں۔ سعد (رض) نے ان کی بات کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : نہیں وہ جنتی ہے۔“ مسائل ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں آپ کے سامنے اونچی آواز سے بات کرنا منع تھا۔ ٢۔ جس طرح ایک دوسرے کو دور سے پکارا جاتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں اور اب بھی آپ کو دور سے پکارنا منع ہے۔ ٣۔ جو لوگ اپنی یا کسی کی ذات اور بات کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور بات سے اونچا سمجھتے ہیں ان کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ ٤۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور بات سے اپنی یاکسی کی ذات اور بات کو اونچا سمجھنا اپنے اعمال کو ضائع کرنا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور بات کا مقام اور احترام : ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دور سے آواز نہ دی جائے۔ (الحجرات : ٤) ٢۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اونچی آواز نہ کی جائے۔ (الحجرات : ٢) ٣۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے قدم نہ اٹھایا جائے۔ (الحجرات : ١) ٤۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اتباع کی جائے۔ (محمد : ٣٣) ٥۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو دیا اسے پکڑلیا جائے جس سے آپ نے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیاجائے۔ ( الحشر : ٧)