سورة الحجرات - آیت 1

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مومنو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بےشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : سورت فتح کا اختتام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی جماعت کے اوصاف کے بیان پر ہوا۔ سورت الحجرات میں صحابہ پاک اور عظیم جماعت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ادب واحترام کرنے اور آپس میں رہنے کے آداب سکھلائے گئے ہیں۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔ ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ مفسرین نے ” لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ“ کے کئی معانی ذکر کیے ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام و احترام کا تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھا جائے۔ اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنے کا پہلا معنٰی یہ ہے کہ جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے اسے اپنے لیے کافی اور شافی سمجھاجائے۔ ٢۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے بتلائے ہوئے طریقے کو کافی نہیں سمجھتے اور ثواب کی غرض سے اپنی طرف سے اضافے کرتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھ جاتیہیں۔ ٣۔ اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات اور طریقے میں نقص نکالنا اور اس کے مقابلے میں اپنی سوچ کو مقدم جاننا، یہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنا ہے۔ ٤۔ جان بوجھ کر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنا۔ ٥۔ قرآن و سنت سے مسئلہ ثابت ہوجانے کے باوجود اپنی فقہ کے مطابق عمل کرنا اور اسے مقدم سمجھنا۔ ٦۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتلائے ہوئے قانوں اور ضابطوں کو نافذ کرنے کی بجائے اپنی مرضی یا پارلیمنٹ کے فیصلے کو ترجیح دینا۔ حقیقت میں یہی اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنا ہے جس کی کسی اعتبار سے بھی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں اس حقیقت کو انتباہ کے طور پر فرمایا ہے کہ ” اللہ“ ہر بات سننے والا اور ہر کسی کی نیت و عمل کو جاننے والا ہے۔ ” حضرت انس (رض) بیان فرماتے ہیں تین آدمیوں کا وفد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی عبادت کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ جب ان کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتلایا گیا تو انہوں نے اس کو اپنے لئے معمولی سمجھا۔ وہ کہنے لگے ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرتبہ تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا۔ دوسرا کہنے لگا کہ میں زندگی بھر روزہ رکھوں گا۔ تیسرا کہتا ہے کہ میں کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ہاں تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں میں روزہ رکھتاہوں اور چھوڑتابھی ہوں، نماز پڑھتاہوں اور آرام بھی کرتا ہوں، میں نے عورتوں سے نکاح بھی کر رکھا ہے۔ پس جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا اس کا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ (رواہ البخاری : باب التَّرْغِیبُ فِی النِّکَاحِ ) (وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا) (الحشر : ٧) رسول جو تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَایُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ) (مشکوٰۃ: باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی جب تک اپنی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے اس وقت تک وہ ایمان والا نہیں ہوسکتا۔“ مسائل ١۔ مسلمانوں کو کسی صورت اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ٢۔ مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ سے ڈرتے ر ہنا چاہیے۔ ٣۔ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ ہر بات کو سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے کا حکم : ١۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ (الانفال : ٤٦) ٢۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (آل عمران : ١٣٢ ) ٣۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال برباد نہ کرو۔ (محمد : ٣٣) ٤۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور نافرمانی سے بچو۔ (المائدۃ: ٩٢) ٥۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول اور صاحب امر کی اطاعت کرو۔ (النساء : ٥٩ )